قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبد الرحمن بن جاسم آل ثانی نے منگل کے روز ایران کی جانب سے قطر پر کیے گئے "ناقابل قبول" حملے کی مذمت کی۔ یہ بیان اس واقعے کے ایک دن بعد آیا جب تہران نے قطر میں واقع امریکی ہوائی اڈے "العدید" کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی امریکہ کے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔
دوحہ میں لبنانی وزیر اعظم نواف سلام کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران شیخ محمد بن عبد الرحمن نے کہا "قطر پر حملہ ایک ناقابل قبول اقدام ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہم نے اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر صورتِ حال کو پرسکون کرنے کی بڑی سفارتی کوششیں کیں۔"
انھوں نے امریکہ اور ایران دونوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جوہری مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ انھوں نے کہا "ہم امریکی اور ایرانی فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے گفت و شنید دوبارہ شروع کریں تاکہ کوئی سفارتی حل نکل سکے۔"
"مشکل صورتِ حال"
قطری وزیر اعظم نے اسرائیل کے طرزِ عمل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا "اسرائیلی غیر ذمے دارانہ اقدامات خطے کو ایک نہایت پیچیدہ صورتِ حال کی طرف لے جا رہے ہیں۔" انھوں نے امید ظاہر کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں جلد از جلد حالات قابو میں آ جائیں گے۔
ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قطر نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور رہائشیوں کے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
شیخ محمد بن عبد الرحمن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ اس جنگ بندی کی پابندی کریں۔
انھوں نے وضاحت کی کہ قطر نے آغاز ہی سے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مزید برآں، وزیر اعظم قطر نے یہ بھی بتایا کہ ان کا ملک مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے "العدید" اڈے کو نشانہ بنانے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران ہمسائیگی کے اصولوں کی پابندی کرتا ہے اور قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، اور یہ کہ وہ امریکی اور اسرائیلی کوششوں کو ان علاقائی تعلقات کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
میزائل اور ڈرون حملے
یاد رہے کہ اتوار کے روز امریکہ نے ایران میں جوہری مراکز ... فردو، نطنز اور اصفہان پر کیے گئے حملوں کے جواب میں ... مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑے امریکی فضائی اڈے "العدید" پر تقریباً 14 میزائل داغے تھے۔ نیز عراق میں امریکی اڈوں کی طرف ڈرونز بھی روانہ کیے گئے تھے۔
ایک امریکی عہدے دار نے واضح کیا کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ امریکہ کو حملے کا اندازہ تھا اور اس نے احتیاطی تدابیر اختیار کر رکھی تھیں۔
بعد ازاں امریکی صدر ٹرمپ نے چند گھنٹوں کے اندر اچانک ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ بے غیر معمولی جھڑپوں کے بعد ... جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔
-
جنگ کے 12 دن: اسرائیل اور ایران کی طرف سے ادا کی گئی بھاری قیمت
اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی منگل کو دونوں ممالک کے درمیان 12 دن کی غیر ...
مشرق وسطی -
ایران: پاسداران انقلاب کا 6 اسرائیلی جاسوسوں کو گرفتار کرنے کا اعلان
ایرانی پاسداران انقلاب نے منگل کو کہا ہے کہ اس نے ہمدان میں چھ جاسوسوں کو گرفتار ...
مشرق وسطی -
اسرائیل، ایران پر حملہ نہیں کرے گا ... فائر بندی جاری ہے : ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ نہیں کرے گا، اور ...
بين الاقوامى