اسرائیل، ایران پر حملہ نہیں کرے گا ... فائر بندی جاری ہے : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ نہیں کرے گا، اور انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ جنگ بندی برقرار ہے۔ ٹرمپ نے آج منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد لکھا کہ اسرائیلی طیارے ایران کی طرف دوستانہ سلام کے لیے جا رہے ہیں، اور کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، بلکہ تمام طیارے واپس لوٹ آئیں گے۔

اس کے بعد ٹرمپ نے ایک اور پیغام میں زور دیا کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات کو دوبارہ تعمیر نہیں کرے گا۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے تصدیق کی کہ اسرائیل اور ایران دونوں نے چند گھنٹے قبل اُن کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ دونوں ممالک سے ناخوش ہیں، خاص طور پر اسرائیل سے۔

نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے ہیگ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرتے ہی پیچھے ہٹنا شروع کر دیا تھا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کو پرسکون ہونا چاہیے ... اور "میں دیکھوں گا کہ کیا میں انھیں روک سکتا ہوں۔"

ایران کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس کی جوہری صلاحیت ختم ہو چکی ہے اور وہ اسے دوبارہ کبھی تعمیر نہیں کرے گا۔

روانگی کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا "اسرائیل، یہ بم نہ گراؤ۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ سخت خلاف ورزی ہوگی۔ اپنے پائلٹوں کو فوراً واپس بلاؤ!"

بعد ازاں اسرائیلی چینل 12 نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر اس وقت اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر بات کر رہے ہیں۔

ادھر منگل کے روز، اگرچہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو چکی تھی، لیکن شمالی اسرائیل میں سائرن بجنے کی اطلاعات آئیں۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق یہ سائرن الجلیل اور حیفا کے نواح میں بجے۔

اسرائیلی فوج نے خبردار کیا کہ ایرانی میزائل اسرائیل کی طرف داغے گئے ہیں، جبکہ ایرانی فوج اور قومی سلامتی کونسل دونوں نے نئے میزائل حملوں کی تردید کی۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی "سنگین خلاف ورزیوں" کے جواب میں تل ابیب "شدید رد عمل" دے گا۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاتز نے بھی بیان میں کہا "ہم جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں تہران پر حملے جاری رکھیں گے۔"

قبل ازیں امریکی صدر نے دونوں ملکوں پر زور دیا تھا کہ وہ جنگ بندی کی پابندی کریں، جب کہ اسرائیلی حکومت نے بعد ازاں خبردار کیا تھا کہ کسی بھی خلاف ورزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ تل ابیب نے دعویٰ کیا کہ "ہم نے ایک بڑی فتح حاصل کر کے ایرانی جوہری اور میزائل خطرے کا خاتمہ کر دیا ہے۔"

گزشتہ 12 دنوں کے دوران اسرائیل اور ایران کے درمیان غیر معمولی تصادم جاری رہا۔ اس دوران اسرائیل نے ایران کے فوجی، جوہری اور میزائل ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، یہاں تک کہ سینیئر عسکری قائدین اور جوہری سائنس دانوں کو بھی ہلاک کر دیا۔

ایران نے بھی اسرائیلی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک پوری مہم چلائی۔

اس تنازع میں امریکہ بھی شامل ہو گیا اور اس نے گزشتہ ہفتے کی شب ایران کی تین جوہری تنصیبات ... فردو، نطنز اور اصفہان پر فضائی حملے کیے۔

جواباً تہران نے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے بعد چند گھنٹوں میں صدر ٹرمپ نے اچانک جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں