ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد تہران سے کوئی رابطہ نہیں:امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت کا ایران کے ساتھ کوئی رابطہ ہے اور نہ ہی کوئی پیش کش کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

اتوار کو ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران نے خیرسگالی کا مظاہرہ کیا تو اس پر عائد پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے امریکی چینل "فاکس نیوز" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران اس وقت دوبارہ جوہری پروگرام شروع کرنے کا سوچ بھی نہیں رہا۔ ان کے بقول، "ایران اس قدر تھکا ہوا ہے کہ اسے اس کی فرصت ہی نہیں"۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ "ایران کو امریکی حملوں سے پہلے یورینیم منتقل کرنے کا وقت ہی نہیں ملا"۔

"یہ جنگ ایران کے لیے مہنگی ثابت ہوئی"

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ ایران کے لیے انتہائی مہنگی پڑی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران صرف چند ہفتوں کی دوری پر تھا کہ جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔

جمعے کے روز ٹرمپ نے ان میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ ایران کو تیس ارب ڈالر کی امداد دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ وہ شہری توانائی کے لیے جوہری پروگرام بنا سکے۔

یاد رہے کہ 13 جون سے اسرائیل اور ایران کے درمیان بارہ دن تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں امریکا کو براہ راست مداخلت کرنا پڑی۔ امریکا نے گزشتہ ہفتے ہفتے کی شام ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر فضائی حملے کیے۔

جوابی کارروائی میں ایران نے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

چند ہی گھنٹوں بعد صدر ٹرمپ نے اچانک اعلان کیا کہ دونوں جانب سے فائر بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں