قاليباف کی ایک ٹویٹ نے سوالات کا طوفان کھڑا کر دیا... تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی اسپیکر پارلیمنٹ اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قاليباف کا نام ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اس وقت نمایاں ہوا جب انہوں نے عالمی تیل کی منڈیوں کے شرکاء کو خبردار کیا۔

پیر کے روز اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر ایک مختصر پوسٹ میں ایرانی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نے متنبہ کیا کہ "تیل کی ڈیجیٹل قیمتیں اور امریکی ٹریژری بانڈز محض قیاس آرائیوں پر مبنی کاغذ کے گھروندے ہیں، جبکہ اصل سودوں پر مبنی تیل کی حقیقی قیمتیں ہی واحد قابلِ اعتماد معیار ہیں"۔

تاہم یہ ٹویٹ اتنی سادہ ثابت نہیں ہوئی بلکہ اس نے متعدد تجزیہ کاروں، صحافیوں اور یہاں تک کہ سفارت کاروں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی، جن کا خیال ہے کہ اس تحریر میں کچھ پیچیدگیاں اور مشکوک اشارے چھپے ہوئے ہیں۔

خاص طور پر اس لیے کہ قاليباف نے یہ موقف اپنایا کہ مارکیٹ میں تجارت کا دارومدار احساسات یا جیو پولیٹیکل خبروں پر ہے نہ کہ کسی حقیقی بنیاد پر۔ انہوں نے "بلومبرگ ٹرمینل" کا حوالہ بھی دیا جو 'Dated Brent' کی قیمت دکھاتا ہے، جو کہ خام تیل کی اصل قیمت ہے (نہ کہ کاغذی معاہدوں کی)۔

"ایکس" پر کچھ صارفین نے اس ٹویٹ کو گذشتہ جمعے کو پیش آنے والے ایک واقعے کی طرف اشارہ قرار دیا، جب تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے با ضابطہ اعلان سے محض 21 منٹ پہلے 76 کروڑ ڈالر کی تیل کی 'شارٹ سیلنگ' (Short Sell) کی گئی تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ کسی ادارے یا شخص نے سرکاری اعلان سے قبل ہی تیل کی قیمت گرنے پر شرط لگا دی تھی۔

دوسری جانب سابق امریکی سفارت کار اور مشرق وسطیٰ و ایرانی امور کے ماہر جوئل ریبرن نے "ایکس" پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ "قاليباف خود یہ اکاؤنٹ نہیں چلا رہے"۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ایرانی نظام کی پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے جسے ملک سے باہر بیٹھا کوئی نامعلوم شخص یا گروہ چلا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "قاليباف ایک ذہین شخص ہیں، لیکن وہ اس طرح کی صقید انگریزی میں بیان تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور یہی بات دیگر ایرانی رہنماؤں کے نام سے منسوب اکاؤنٹس پر بھی صادق آتی ہے"۔

ادھر "یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران" کے ڈائریکٹر جیسن بروڈسکی نے اس بات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ قاليباف کی طرف سے یہ ٹویٹس کون لکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ایسی رپورٹیں سامنے آئی ہیں کہ کیلیفورنیا میں مقیم ان کا ایک سابق مشیر یہ سب لکھ رہا ہے، لیکن اس کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ ان ٹویٹس کی زبان ضرورت سے زیادہ جدید ہے"۔

ایرانی اسپیکر کی گذشتہ ٹویٹس نے بھی تنازع کھڑا کیا تھا کیونکہ انہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ امریکی عوام کو مخاطب کر رہے ہیں اور ان کی معاشی دکھتی رگوں سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی بنا پر "فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز" (FDD) کے سی ای او مارک ڈوبووٹز نے بھی علانیہ شک ظاہر کیا تھا کہ یہ پیغامات امریکی سامعین کے لیے بہت مہارت سے بنے گئے ہیں۔

دریں اثنا بعض رپورٹوں میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیلیفورنیا میں مقیم ایک ایرانی نژاد امریکی شہری، جو میڈیا اور میڈیا سائیکالوجی کا ماہر ہے، 28 فروری 2026 کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ ٹویٹس لکھ رہا ہے، کیونکہ اس کے بعد سے قاليباف کی "ایکس" پر سرگرمی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں