ایرانی ہیکرز امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں : امریکی انتباہ
امریکہ کی طرف سے اپنی کمپنیوں کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ ایرانی ہیکرز ممکنہ طور پر امریکی کمپنیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سائبر حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
امریکی انتباہ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کے انفراسٹرکچر کے آپریٹرز کے علاوہ دفاعی امور سے متعلق کمپنیاں بھی بطور خاص ایرانی ہیکرز کے نشانے پر آسکتی ہیں۔ امریکی انتطامیہ نے اپنی کمپنیوں کو محتاط رہنے کے لیے یہ انتباہ پیر کے روز جاری کیا ہے۔
امریکی سیکیورٹی سے متعلق اداروں ' ایف بی آئی، نیشنل سیکیورٹی ایجنسی، ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس سائبر کرائم سینٹ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی' کے شہری سائبر سیکیورٹی ڈیفنس ونگ نے اس ایڈوائزری کے ساتھ جاری کردہ بیان میں اگرچہ اپنے شہریوں اور کمپنی مالکان کو تسلی دیتے ہوئے کہا ہے ابھی تک ایران سے جڑے ایسے حملہ آوروں کی سائبر مہم شروع ہونے کے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں لیکن پھر بھی خود کو ان ممکنہ حملوں سے محفوط بنانے کے اقدامات کریں۔
امریکی سیکیورٹی اداروں کے اس مشترکہ انتباہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ اعلان شدہ جنگ بندی اور مستقل حل کے لیے جاری مذاکرات کے باوجود ایرانی سائبر ایکٹرز اور ہیکر نقصان دہ سائبر حملے کر سکتے ہیں۔
یاد رہے اسرائیل اور امریکہ میں سائبر سیکیورٹی کے محققین اور سائبر محافظین نے 13 جون سے اب تک ایسی مشکوک ایرانی سائبر سرگرمیاں بہت کم دیکھی ہیں۔ اگرچہ خطرہ تھا کہ 13 جون سے شروع کی گئی اس جنگ کے دوران یا ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ایسے جوابی حملے ہو سکتے ہیں۔
اس لیے امریکی سیکیورٹی اداروں نے پیر کے روز سبھوں کو خبردار کیا ہے کہ کہا کہ ایرانی ریاست کے زیر اہتمام ہیکرز نسبتاً غیر محفوظ اور پرانے سافٹ ویئرز کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے حملے کر سکتے ہیں۔ ان میں انٹرنیٹ سے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیوائسز کو زیادہ مشکلات آسکتی ہیں۔ نیز 'رینسم ویئر آپریٹرز' کے ساتھ مل کر خفیہ معلومات کو غائب کرنے، چوری کرنے اور افشا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔