امریکی ’بموں کی ماں ‘ جیسے ہتھیاروں کی بانی ویتنامی پناہ گزین خاتون آنا دونگ کون ہیں؟

آنا دونگ نے 11 ستمبر کے بعد امریکی فوج کے لیے ایسی ہتھیار سازی کی بنیاد رکھی جو ایران اور افغانستان میں استعمال ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

آنا دونگ جو ویتنام جنگ کی ایک سابقہ پناہ گزین ہیں اور اب 65 برس کی ہو چکی ہیں نے جب ایران میں امریکی بمباری کی تکنیکی تفصیلات پڑھیں تو ان میں ایک مانوسیت کا احساس پیدا ہوا۔ دراصل یہی اس قسم کی بمباری تھی جس کی تیاری میں وہ خود شریک رہ چکی تھیں۔

نائن الیون حملوں کے ایک ماہ بعد آنا دونگ نے امریکی فوج کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم کی قیادت کی، جس نے ایسا دھماکہ خیز مواد تیار کیا جو بعد ازاں ایران کے جوہری مراکز پر بمباری میں استعمال ہوا۔ امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کے مطابق یہ بم غزہ میں القاعدہ کی سرنگوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

جنگوں کا رخ بدلنے والا ہتھیار

آنا دونگ اور ان کی ٹیم کی تیار کردہ BLU-118/B نامی بم ایک جدید لیزر گائیڈڈ ہتھیار تھا، جس کا مقصد زیرزمین چھپی پناہ گاہوں کو ختم کرنا تھا۔ دونگ کے مطابق، یہ بم شدید اور دیرپا حرارت پیدا کرتا ہے، جو فوجیوں کو خطرناک علاقوں میں داخل ہونے سے بچاتا ہے۔

یہ بم افغان جنگ میں کئی مرتبہ استعمال ہوا اور کہا جاتا ہے کہ اس نے امریکہ کی طویل ترین جنگ کو مختصر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس سے پہلے دونگ کی ٹیم ایک نئی نسل کے دھماکہ خیز مواد پر کام کر رہی تھی، جو پتھروں اور دیواروں کو چیر کر اندر جا کر دھماکہ کر سکے۔ یہ ٹیکنالوجی بعد ازاں GBU-57 کہلائے جانے والے ہتھیاروں کی بنیاد بنی، جن میں سے 12 بم ایران کے فردو جوہری مرکز اور 2 نطنز پر گرائے گئے۔

اگرچہ آنا دونگ نے ان بموں کے ایرانی جوہری پروگرام پر اثرات سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایسے اہداف کی کامیابی کا اندازہ واشنگٹن، تل ابیب یا تہران میں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔

سائیگون سے امریکی لیبارٹری تک

آنا دونگ کی کہانی 1975ء میں اُس وقت شروع ہوئی جب وہ 7 برس کی تھیں۔ وہ ویتنام کے دارالحکومت سائیگون میں اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں اور اپنے پائلٹ بھائی کے لیے جدید ہتھیاروں کی تمنا رکھتی تھیں تاکہ وہ زندہ واپس آ سکیں۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی کی جنگی یادوں نے ایک خواب کو جنم دیا اور پھر اپریل 1975ء میں سائیگون کے شمالی ویتنامی افواج کے ہاتھوں سقوط کے بعد دونگ اپنے خاندان کے ہمراہ جنوبی ویتنامی بحریہ کی ایک کشتی میں فرار ہو کر امریکہ پہنچ گئیں۔

واشنگٹن میں انہیں رشتہ داروں اور چرچ کی مدد سے سہارا ملا۔ دونگ نے بتایاکہ "ہم خالی ہاتھ آئے تھے مگر ہمیں بہت سے ہمدرد امریکی ملے جنہوں نے نئی زندگی کی بنیاد ڈالنے میں ہماری مدد کی"۔

محض 16 برس کی عمر میں امریکہ آنے والی دونگ نے انگریزی نہ جاننے کے باوجود محنت جاری رکھی اور 1982ء میں میری لینڈ یونیورسٹی سے کیمیکل انجینیئرنگ میں امتیازی نمبروں سے گریجویشن کیا، پھر امریکی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا اور بالآخر امریکی بحریہ میں شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔

سنہ2001 ءتک آنا دونگ امریکی بحریہ کے "انڈین ہیڈ وار فیئر سنٹر" میں ہتھیاروں کی جدید تیاری کی ڈائریکٹر بن چکی تھیں۔ نائن الیون حملوں کے بعد انہوں نے اور ان کی 100 رکنی ٹیم نے 5 سال کا کام صرف 67 دنوں میں مکمل کر کے 420 گیلن دھماکہ خیز مواد تیار کیا۔

خدمات کا اعتراف

سنہ2002ء میں امریکی بحریہ نے آنا دونگ اور ان کے ادارے کے 2000 سے زائد ارکان کو "یونٹ ایوارڈ فار ایکسیلنس" سے نوازا۔

اگرچہ انہوں نے ویتنام جنگ میں بمباری کے اثرات خود جھیلے، مگر ان کا ماننا تھا کہ جدید ہتھیار زمینی تصادم کم کر کے جنگ کا دورانیہ مختصر کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول ان کا پہلا فرض ایک امریکی اور فوجی سائنسدان کے طور پر یہ تھا کہ وہ امریکی فوجیوں کی واپسی کو یقینی بنائیں۔

آنا دونگ کی لڑکپن کی تصویر
آنا دونگ کی لڑکپن کی تصویر

آنا دونگ 2020ء میں ریٹائر ہوئیں۔ ان کا شوہر جو ایک سابق ویتنامی پناہ گزین ہے ان سے یونیورسٹی میں ملا تھا۔ دونوں میری لینڈ کے شہر ہیگرز ٹاؤن کے قریب رہتے ہیں اور ان کے چار بچے ہیں۔ وہ بچوں سے کہتی ہیں کہ "جب بھی کوئی لاٹری کا اشتہار آتا ہے، میں کہتی ہوں کہ ہم تو پہلے ہی جیت چکے، کیونکہ ہم یہاں ہیں۔ یہ ملک جنت ہے"۔

سنہ 2007ء میں انہیں "صموئیل جے ہائمن" میڈل برائے خدمتِ امریکہ دیا گیا۔ ایک اعزازی ویڈیو میں انہوں نے اپنی جدوجہد، نجات اور امریکہ میں بنائی گئی نئی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ "میں 58 ہزار امریکی فوجیوں اور 2 لاکھ 60 ہزار جنوبی ویتنامی سپاہیوں کی قربانی کو نہیں بھولی، جنہوں نے اپنی جانیں دیں۔ میرے لیے یہ موقع انہی کی دین ہے"۔

سنہ 2008ء میں آنا دونگ نے امریکی وزارتِ داخلی سلامتی میں سرحدی و بحری سکیورٹی کی سربراہی سنبھالی۔ یعنی اب وہ حملے سے دفاع کی طرف آ چکی تھیں۔ ایک بار ایک افغان جنگ کے سپاہی نے ان سے کہاکہ"شکریہ آنا، آپ نے میری اور میرے ساتھیوں کی جان بچائی"۔ جس پر دونگ نے جواب دیا: "شکریہ تو مجھے کہنا چاہیے کہ آپ نے اپنی جان خطرے میں ڈالی"۔

یہ لمحہ جو انہوں نے کسی سے بیان نہیں کیا، ان کے مطابق ان کی زندگی کا سب سے قیمتی انعام تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں