مصر کے عظیم سفارت کار نبیل العربی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

مصر کے سابق وزیر خارجہ اور عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل نبیل العربی طویل علالت کے بعد 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

یہ خبر ریاست قطر میں مصر کے سابق سفیر محمد مرسی نےجاری کی ہے۔ انہوں نے ’فیس بک‘ پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ "آج مصری سفارت کاری نے اپنے ایک عظیم مردکار، پروفیسر ڈاکٹر نبیل العربی کو کھو دیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور گفت و شنید کے فن میں ایک ممتاز درسگاہ کھو دیا ہے"۔

طابا مذاکرات میں مصری وفد کی قیادت

انہوں نے نبیل العربی کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں ان سینکڑوں سفارت کاروں اور دیگر افراد میں سے ایک تھا جنہوں نے ان سے تعلیم حاصل کی اور پیشہ ورانہ علوم سیکھے"۔

مصری سفیر نبیل العربی کے طابا میں مصری مذاکرات کاری کے کردار کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے لکھا کہ"میں ان کے اصرار کو نہیں بھولتا، جب وہ تاریخی طابا مذاکرات کے لیے قومی وفد کے سربراہ تھے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ "ان کا اندازہ یہ تھا کہ یہ مذاکرات متعدد جونیئر سفارت کاروں کو عملی طور پر تربیت دینے کا ایک نادر موقع تھا۔ میں اس وقت ان میں سے ایک تھا اور یہ مذاکرات درحقیقت سب سے بڑے، طویل ترین اور کامیاب ترین تھے۔ مصر کی تاریخ میں ان مذاکرات کی قیادت ہمارے پروفیسر ڈاکٹر نبیل العربی نے پوری مہارت اور کامیابی کے ساتھ کی"۔

نبيل العربي
نبيل العربي

نبیل العربی کے خلاف اسرائیل کی ناکامی

مصری سفیر محمد مرسی نے مزید کہا کہ "مجھے یاد ہے کہ مذاکراتی مراحل کے دوران اسرائیل کو کئی بار مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کو تبدیل کرے، جب کہ یہ سب ڈاکٹر نبیل العربی اور ان کی ٹیم کا سامنا کرنے میں ناکام رہے،‘۔

انہوں نے کہا کہ مرحوم کے ساتھ کھڑے نہ ہونے والوں میں ڈاکٹر نبیل العربی اور ان کی ٹیم، سفیر اور خارجہ سیکرٹری ڈیوڈ کمحی جو اسرائیل کے مضبوط آدمیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔

سفیر محمد مرسی نے لکھا کہ مرحوم کو ایک ممتاز سفارتی اور قانونی استاد سمجھا جاتا تھا۔

نبیل العربی
نبیل العربی

کیمپ ڈیوڈ مذاکرات میں ان کا کردار

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر نبیل العربی 1935ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1955ء میں قاہرہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء سے گریجویشن کی۔ پھر بین الاقوامی قانون میں ماسٹر ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد نیویارک یونیورسٹی کے سکول سے جوڈیشل سائنسز میں قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

مصر کے اہم ترین بین الاقوامی مسائل میں ان کا بڑا کردار تھا، کیونکہ انہوں نے مصر کے شہر طابا پر مصر کے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں مصر کے وفد کی سربراہی کی تھی۔اس کےعلاوہ کیمپ ڈیوڈ مشرق وسطیٰ امن کانفرنسوں کا انعقاد کیا تھا۔ یہ کانفرنسیں1978ء اور 1985ء میں منعقد ہوئی تھیں۔

سوڈانی حکومت کے مشیر

نبیل العربی نے 1981ء اور 1983ء کے دوران میں بھارت میں مصری سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جنیوا میں1987 تا1991ء اور نیویارک میں 1991ء سے 1999ء تک اقوام متحدہ میں مصر کے مستقل مندوب رہے۔ انہوں نے سوڈان کی حکومت اور سوڈان کی عوامی آزادی کی تحریک کے درمیان ابی ایریا کی سرحدوں کے حوالے سے ثالثی میں سوڈانی حکومت کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

بین الاقوامی عدالت انصاف میں جج

نبیل العربی نے 2001ء سے 2006ء تک بین الاقوامی عدالت انصاف میں جج کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1994ء سے 2001ء تک اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی قانون کے رکن رہے۔ تب سے ہیگ میں ثالثی کی مستقل عدالت کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 2005ء اور بین الاقوامی ثالثی مرکز کے صدر اور کورٹ آف جسٹس انٹرنیشنل کے سابق جج کے طور پر خدمات انجام دیں۔

وہ ان ججوں میں شامل تھے جنہوں نے جون 2004ء میں اسرائیلی دیوار فاصل کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا تھا۔

سفیر نبیل العربی فلسطینی صدر کے ساتھ
سفیر نبیل العربی فلسطینی صدر کے ساتھ

مصری وزارت خارجہ اور عرب لیگ

دسمبر 2009ء میں انہیں برلن سے ملکہ نیفرتیتی کے مجسمے کی بازیابی کے لیے مصری قانونی فائل تیار کرنے کا کام سونپا گیا۔ 4 فروری 2011ء کو انہیں دانشوروں پر مشتمل کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا جو 25 جنوری کے2011ء کے انقلاب کے دوران بنائی گئی تھی۔

نبیل العربی نے 25 جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد مصری وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالا اور 15 مئی 2011 کو عمرو موسیٰ کی جگہ انہیں عرب لیگ کا سیکرٹری جنرل مقررکیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں