امریکی حملوں نے ایرانی جوہری پروگرام دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے : پینٹاگان
پینٹاگون کے ترجمان شون بارنل نے کہا "ہم نے جن تین ایرانی جوہری تنصیبات پر بم باری کی، ان کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا ہے"
امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں تہران کا جوہری پروگرام دو سال تک پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
پینٹاگان کے ترجمان شون بارنل نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ سرکاری تخمینہ "شاید دو سال کے قریب ہو"۔
انھوں نے مزید کہا "ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے نتائج میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، کیونکہ وہ (تنصیبات) تباہ کی جا چکی ہیں۔"
یاد رہے کہ اسرائیلی حملوں کے چند دن بعد، 22 جون کو امریکہ نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بم باری کی۔
اس کے جواب میں، ایران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے "العديد" پر حملہ کیا، اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنا تعاون معطل کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی جانب سے ایرانی جوہری پروگرام پر کی گئی بم باری "طاقت ور اور تباہ کن" تھی۔
انھوں نے مزید کہا "ایران میں جن مقامات کو ہم نے نشانہ بنایا، وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔"
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز امریکی نشریاتی ادارے "سی بی ایس نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی فضائی حملے نے ایران کے فوردو جوہری مرکز کو "شدید اور کاری نقصان" پہنچایا ہے۔