دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے یوکرین کا امریکی کمپنی سے لاکھوں ڈرون کی تیاری کامعاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یوکرینی صدر ولاودیمیر زیلینسکی نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک نے ایک امریکی کمپنی "سویفٹ بیٹ" کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت رواں سال لاکھوں ڈرون طیارے تیار کیے جائیں گے۔

زیلینسکی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ڈنمارک کے دورے کے دوران لکھاکہ "یہ معاہدہ دشمن کے ڈرون اور میزائل تباہ کرنے والے ڈرونز، چار پنکھوں والے جاسوسی ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملہ آور ڈرونز کی تیاری پر مشتمل ہے"۔

انہوں نے مزید کہاکہ "اس سب کی تعداد مزید بڑھے گی"۔

ٹرمپ کے دور میں پالیسی میں تبدیلی

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے کہا تھا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں یوکرین کو اسلحہ اور گولہ بارود بغیر کسی حساب کتاب کے بھیجا جا رہا تھا، جبکہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اس پالیسی میں واضح تبدیلی آئی ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان شان بارنیل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ "میرے خیال میں بائیڈن انتظامیہ کے دوران ہم بہت طویل عرصے تک بغیر سوچے سمجھے اسلحہ تقسیم کرتے رہے"۔

بارنیل نے مزید کہاکہ "صدر ٹرمپ کے انتخاب کا مقصد اپنے ملک کو اولیت دینا اور قومی سلامتی کا تحفظ ہے"۔

انہوں نے بتایا کہ وزارتِ دفاع اب صدر کو ایسی معلومات فراہم کر رہی ہے جن سے وہ اندازہ لگا سکیں کہ امریکہ کے پاس اس وقت کتنی گولہ بارود موجود ہے اور اسے کہاں بھیجا جا رہا ہے، اور یہ تجزیاتی عمل اس وقت جاری ہے۔

کچھ اسلحہ کی فراہمی روک دی گئی

ان بیانات سے قبل امریکی اخبار "پولیٹیکو" نے منگل کو انکشاف کیا تھا کہ پینٹاگون نے یوکرین کو فضائی دفاعی میزائلوں اور دیگر حساس گولہ بارود کی کچھ کھیپیں روک دی ہیں، کیونکہ امریکی ذخائر میں شدید کمی کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ جون کے اوائل میں لیا گیا، تاہم اس پر اب عمل درآمد شروع ہوا ہے۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یوکرین کو بعض قسم کے اسلحہ کی فراہمی روک دی گئی ہے، جن میں دفاعی میزائل بھی شامل ہیں۔ اس فیصلے کی وجہ امریکی ذخائر میں کمی اور قومی مفادات کا تحفظ بتائی گئی۔

وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان آنا کیلی نے ایک بیان میں کہاکہ "یہ فیصلہ امریکی مفاد کو اولیت دینے کے تحت کیا گیا، جو وزارتِ دفاع کی عالمی امدادی پالیسی پر نظرثانی کے بعد سامنے آیا ہے"۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "امریکی فوج کی طاقت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں