ایک آسٹریلوی عدالت نے پیر کے روز ایرن پیٹرسن نامی خاتون کو اپنے شوہر کے تین قریبی رشتہ داروں کو زہریلا کھانا دے کر ہلاک کرنے کا مجرم قرار دے دیا۔
وکٹوریہ ریاست کی سپریم کورٹ کے جج نے یہ فیصلہ چھ روزہ غور و خوض اور نو ہفتوں پر محیط عدالتی کارروائی کے بعد سنایا، جس نے آسٹریلیا بھر میں خاصی توجہ حاصل کی۔
ایرن پیٹرسن پر الزام تھا کہ اُس نے 2023ء میں لیونگاتھا کے اپنے گھر میں شوہر کے والدین ڈون اور جائل پیٹرسن اور جائل کی بہن ہیتر وِلکنسن کو بیف پائی میں زہریلا فطر (موت کی ٹوپی) شامل کر کے کھلایا، جس کے نتیجے میں تینوں افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے۔
چوتھے شخص ایان وِلکنسن جو کہ ہیتر کے شوہر ہیں کو بھی وہی کھانا دیا گیا، لیکن وہ زہر سے بچ نکلے۔ عدالت نے ایرن پیٹرسن کو ان کے قتل کی کوشش کا بھی مرتکب ٹھہرایا۔
پیٹرسن کو تاحیات قید کی سزا سنائے جانے کا امکان ہے، جس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔