ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر نے بہت کھلے لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کو یورینیم افزودگی مکمل ختم کرنے پر اصرار کیا تو ایران جوہری پروگرام پر امریکہ سے مذاکرات نہیں کرے گا۔ یہ بات ایرانی مشیر کی طرف سے کہی گئی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے 'ارنا' نے پیر کے روز سپریم لیڈر کے مشیر کا بیان رپورٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر امریکہ نے یورینیم افزودگی روکنے کے شرائط کے ساتھ جوہری مذاکرات پر اصرار کیا تو بھی کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
پیر ہی کے روز اس بیان کے سامنے آنے سے پہلے ایران کی طرف سے کہا گیا تھا کہ حالیہ جنگ کے بعد ابھی تک ایران کے پاس مذاکرات کے لیے کوئی متعین تاریخ نہیں آئی ہے۔ اس سلسلے میں کوئی خاص وقت ابھی مقرر کیا گیا ہے نہ کسی جگہ کا تعین کیا گیا ہے۔ یہ بات ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی نمائندے سٹیفن وٹکوف کی امکانی ملاقات کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
یاد رہے اس سے قبل عباس عراقچی اور وٹکوف ماہ اپریل کے شروع میں باہم مل چکے ہیں۔
امریکہ ایران کے ساتھ 2015 میں ایک جوہری معاہدہ کرچکا ہے۔ تاہم اوباما دور میں ہونے والے اس جوہری معاہدے کو صدر ٹرمپ نے معاہدہ 2018 میں توڑ دیا تھا۔ بعد ازاں رواں سال سے دوبارہ اس معاہدے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ لیکن اس دوران ایران پر امریکہ نے کئی قسم کی پابندیاں لگانے کے علاوہ اس کی اہم ترین جوہری تنصیبات کو بدترین بمباری کر کے بہت تباہی کر دینے کا اعلان کیا تھا۔ البتہ اس کے بعد پھر مذاکراتی عمل شروع کرنے کے اشارے جاری ہیں۔ اگرچہ بارہ روز جنگ نے مذاکرات کے طے شدہ چھٹے دور کو بھی روک دیا تھا۔
اس تناظر میں ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا 'ہم نے بہت سنجیدگی سے سفارتی کوششیں اور مذاکرات شروع کیے تھے۔ ہم پر امید تھے۔ لیکن سب نے دیکھا کہ جب مذاکرات کا چھٹا دور شروع ہونے والا تھا ایران پر بمباری کر دی گئی۔ اسرائیل کی یہ بمباری امریکی ارتباط کے ساتھ تھی۔ بعد ازاں امریکہ نے خود بھی براہ راست بمباری کر دی۔'
پیر ہی کے روز ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے 'ایران سفارتی عمل اور تعمیری بات چیت کی حمایت کرتا ہے۔ اس لیے یقین کرتا ہوں کہ یہ سفارتی کھڑکی کھلی رہے گی اور ہم ایک پر امن راستے پر سنجیدہ پیش رفت کر سکیں گے۔'
اس سے پہلے ایرانی صدر نے اپنے پچھلے بیان میں کہا تھا اگر ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایرانی جواب زیادہ سخت ہوگا۔ اسماعیل بقائی نے پیر کے روز مزید کہا ایران یورپی ملکوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔