ایران سے بات کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے: ٹرمپ

اگست کے آخر تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ تہران امریکہ سے جوہری مذاکرات میں شامل ہونے کی امید کر رہا ہے لیکن انہیں کوئی جلدی نہیں کر ہے۔

ٹرمپ نے پٹسبرگ کے دورے سے واشنگٹن واپس پہنچنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "وہ بات کرنا چاہیں گے۔ لیکن مجھے کوئی جلدی نہیں ہے کیونکہ ہم نے ان کی ایٹمی تنصیبات ختم کر دی ہیں۔"

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز فون پر گفتگو میں ایران سے جوہری معاہدہ طے کرنے کے لیے اگست کا آخر ڈی فیکٹو ڈیڈلائن کے طور پر طے کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ بیان اسی دوران سامنے آیا ہے۔ ایگزیاس میڈیا نے تین ذرائع کے حوالے سے اس بات کی اطلاع دی۔

ایگزیاس کے مطابق اگر اس ڈیڈلائن تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو تینوں یورپی طاقتیں "سنیپ بیک" طریقے پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جس کے تحت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی وہ تمام پابندیاں خود بخود دوبارہ نافذ ہو جائیں گی جو 2015 کے ایران معاہدے کے تحت اٹھائی گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size