بعض آسٹریلوی ڈولفن شکار کے لیے سپنج کا استعمال کرتی ہیں: میرین بائیولوجسٹ

شکار کی یہ تکنیک بظاہرآسان لیکن بہت زیادہ مشکل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

آسٹریلیا میں بعض ڈولفنز کے پاس سمندری فرش سے مچھلیوں کا شکار کرنے کی ایک خاص تکنیک ہے۔ وہ مسخرے کی گول ناک کی طرح اپنی چونچ پر ایک سپنج لگا کر شکار کرتی ہیں۔ تیز چٹانوں سے بچنے کے لیے سپنچ کا استعمال کرتے ہوئے ڈولفن اپنی چونچوں کو ڈھانپ کر تیرتی ہیں اور اس بیلچہ نما کے ذریعے ریتیلی راستوں کی تہہ میں سے گذرتی اور کھانے کے لیے سینڈپرچ مچھلیاں تلاش کرتی ہیں۔ لیکن رائل سوسائٹی اوپن سائنس نامی جریدے میں منگل کو شائع کردہ نئی تحقیق کے مطابق کئی نسلوں سے گذر کر یہاں تک پہنچنے والا یہ طرزِ عمل جتنا آسان نظر آتا ہے، اس سے زیادہ مشکل ہے۔

چہرے پر سفنج کے ساتھ شکار کرنے سے بوٹل نوز ڈالفنز کی آوازیں نکالنے (ایکو لوکیشن) اور پانی میں گھومنے کی صلاحیت میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ ڈنمارک کی یونیورسٹی آف آراہس کی میرین بائیولوجسٹ اور معاون مصنف ایلن روز جیکوبز نے کہا، "اس سے آواز کے دب جانے کا اثر پیدا ہوتا ہے جس طرح ایک ماسک سے ہو سکتا ہے۔ سب کچھ تھوڑا سا عجیب لگتا ہے لیکن آپ بدستور سیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اس کی تلافی کرنی ہے۔"

جیکوبز نے اس بات کی تصدیق کے لیے پانی کے اندر مائیکروفون کا استعمال کیا کہ آسٹریلیا کے شارک بے میں موجود سپنجنگ ڈالفن رہنمائی کے لیے بدستور ایکولوکیشن کلکس کا استعمال کر رہی تھیں۔ جن جنگلی ڈالفنز نے ناک کے سپنج سے چارہ حاصل کرنے میں مہارت حاصل کی ہے، ان کے بارے میں سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ مچھلی پکڑنے کا ایک بہت ہی کارآمد طریقہ ہے۔ جنگلی سمندری سپنج کے سائز سافٹ بال سے لے کر کینٹالوپ تک مختلف ہوتے ہیں۔

"سپنج کا شکار ایسے شکار کی طرح ہے جیسے آپ کی آنکھوں پر پٹی باندھی ہو - کامیابی کے لیے آپ کا بہت زبردست، بخوبی تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے،" اوریگون سٹیٹ یونیورسٹی کے میرین بائیولوجسٹ موریسیو کینٹر نے کہا جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے۔

یہ مشکل اس بات کی وضاحت کر سکتی ہے کہ یہ تکنیک اتنی نایاب کیوں ہے – کیونکہ شارک بے کے محققین کی ڈولفن کی تحقیق کردہ آبادی کا صرف پانچ فیصد اسے استعمال کرتی ہیں۔ جیکبز نے کہا، یہ تقریباً 30 ڈولفنز ہیں۔

"شکار کی یہ خصوصی مہارت سیکھنے میں انہیں کئی سال لگ جاتے ہیں – ہر ایک اس پر قائم نہیں رہتا،" کینیڈا کی ڈلہوزی یونیورسٹی میں سمندری ماحولیات کے ماہر بورس ورم نے کہا جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے۔

ڈولفن کے بچے عموماً تین یا چار سال تک اپنی ماؤں کے ساتھ رہ کر زندگی کی اہم مہارتوں کا مشاہدہ کرتے اور سیکھتے ہیں۔ شریک مصنف اور جارج ٹاؤن میرین بائیولوجسٹ جینیٹ مان نے کہا، سپنج تکنیک سے شکار کا نازک فن اولاد کو صرف ماں سے منتقل ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں