سویدا میں دروز کو انسانی امداد بھیجنے کا حکم دے دیا ہے: اسرائیل
امدادی سامان میں کھانے کے پیکٹ، طبی سازوسامان، ابتدائی طبی امداد کی کٹس اور ادویات شامل ہوں گی
اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے جنوبی شام میں سویدا کے دروز کو انسانی امداد بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔ "ٹائمز آف اسرائیل" کی ویب سائٹ کے مطابق وزارت خارجہ کی مالی اعانت سے دی جانے والی اس امداد میں کھانے کے پیکٹ، طبی سازوسامان، ابتدائی طبی امداد کی کٹس اور ادویات شامل ہوں گی۔
وزارت نے یہ واضح نہیں کیا کہ امداد سویدا تک کیسے پہنچے گی جہاں اس ہفتے پر تشدد کارروائیاں دیکھی گئی تھیں۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ اسے "ایک مخصوص طریقے سے" پہنچایا جائے گا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے مارچ میں بھی شامی دروز کو امداد بھیجی تھی۔
نفیر عام
اسرائیلی فیصلہ شامی عرب قبائل کے جمعرات کو عام نفیر کے اعلان کے بعد آیا اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ جنوبی صوبے میں بدو قبائل کی مدد کے لیے ہے۔ اس سے قبل "العربیہ " کے ذرائع نے بتایا تھا کہ شامی قبائلی افواج سویدا شہر میں داخل ہو چکی ہیں اور اسرائیلی ڈرونز نے جمعہ کی صبح صوبے کے اطراف کو نشانہ بنایا۔ اپنی باری پر شامی وزارت داخلہ نے آج جمعہ کو تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج قبائل اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کو ختم کرنے کے لیے سویدا میں دوبارہ تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ شامی افواج دروز اور بدو کے درمیان جھڑپوں کو ختم کرنے کے لیے سویدا شہر میں دوبارہ تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔
50 ہزار جنگجو
واضح رہے قبائلی جنگجوؤں نے سویدا شہر پر حملہ شروع کر دیا تھا اور کئی دیہاتوں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا تھا جن میں المزرعہ قصبہ سب سے نمایاں تھا۔ قبائلی جنگجو سویدا شہر کے شمالی جانب دمشق روڈ سے قریب پہنچ گئے تھے۔ قبائلی افواج کے ایک ذریعے نے ڈی پی اے کو بتایا کہ حملے میں حصہ لینے والے قبائلی جنگجوؤں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور لاکھوں مزید جمعہ کی صبح مشرقی شام اور حلب صوبے اور اس کے دیہی علاقوں سے پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ذریعے نے تصدیق کی کہ 41 قبائل اور عشائر لڑائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
اسرائیل نے شامی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جنوب سے دستبردار ہو جائے اور خبردار کیا تھا کہ وہ ملک کی حکومت کو اپنی سرحدوں پر اپنی موجودگی کو مضبوط کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔