غزہ میں قحط کی ہولناکی سے بچے جان سے جانے لگے، لوگ بھوک سے بے ہوش ہو رہے ہیں:انروا

اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور طبی اداروں نے صورت حال کو "تباہ کن" قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین (انروا) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے عوام جن میں اس کے اپنے ملازمین بھی شامل ہیں، شدید بھوک کے باعث بے ہوش ہو رہے ہیں۔

اونروا نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "لوگ بھوک سے نڈھال ہو چکے ہیں"۔ایجنسی نے مطالبہ کیا ہے کہ محاصرہ ختم کیا جائے اور اونروا کو خوراک اور ادویات پہنچانے کی اجازت دی جائے۔

بچوں میں جان لیوا غذائی قلت

اسی ضمن میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ غزہ میں بچوں کے درمیان مہلک غذائی قلت تیزی سے پھیل رہی ہے اور یہ سطح اب "تباہ کن" حد تک جا پہنچی ہے۔

یونیسف نے پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں کہا کہ"غزہ میں بھوک کا راج ہے، لوگ جان سے جا رہے ہیں، خوراک نہایت خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے اور صاف پانی کی فراہمی ایمرجنسی سطح سے بھی نیچے ہے"۔ادارے کا کہنا تھا کہ امداد تک رسائی نہایت محدود ہے اور اس میں خطرات بھی لاحق ہیں۔

بھوک سے دو بچوں کی ہلاکت

فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا" کے مطابق، منگل کو طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ غذائی قلت اور قحط کے باعث غزہ میں دو بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے مطابق، غزہ کی انسانی صورت حال "ناقابلِ تصور حد تک" بگڑ چکی ہے، جہاں تقریباً ایک تہائی آبادی کئی کئی دن تک کھانے سے محروم رہتی ہے۔

ادارے کے مطابق، تقریباً 90 ہزار خواتین اور بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مئی کے آخر سے اب تک امداد کے انتظار میں لگ بھگ 800 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ریکارڈ سطح پر غذائی قلت

بین الاقوامی طبی تنظیم "ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز" نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس کی ٹیموں نے غزہ میں اب تک کی سب سے زیادہ غذائی قلت کے کیسز ریکارڈ کیے ہیں۔

اسرائیلی محاصرہ اور امداد کی رکاوٹ

اسرائیل نے 2 مارچ کو اس وقت غزہ کا مکمل محاصرہ شروع کیا جب سال 2025 کے آغاز میں ہونے والی 6 ہفتوں کی جنگ بندی کی توسیع پر مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اسرائیل نے مئی کے آخر تک ہر قسم کی اشیائے ضروریہ کے داخلے پر پابندی عائد رکھی، جس کے بعد چند ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی گئی۔

جنگ بندی کے دوران جو معمولی ذخیرہ جمع ہوا تھا، وہ اب ختم ہو چکا ہے اور غزہ میں 21 ماہ سے جاری جنگ کے بعد رسد کا بدترین بحران پیدا ہو گیا ہے۔

امداد کے منتظر افراد کی ہلاکتیں ہزار سے تجاوز کر گئیں

غزہ میں موجود طبی ذرائع کے مطابق، ہسپتالوں تک پہنچنے والے امداد کے منتظر ہلاک شدگان کی تعداد 1,021 ہو چکی ہے، جب کہ زخمیوں کی تعداد 6,511 بتائی گئی ہے، جیسا کہ فلسطینی خبر رساں ادارے "وفا" نے رپورٹ کیا ہے۔

جنگ کا خونی نتیجہ

سات اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اب تک 59,029 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ 142,135 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں کیونکہ اب بھی کئی لاشیں ملبے اور سڑکوں پر موجود ہیں جہاں ایمبولینس اور امدادی ٹیمیں پہنچنے سے قاصر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں