جب 56 برس قبل "ویتنام جنگ" نے واشنگٹن کی اپنے اتحادیوں سے متعلق پالیسی بدل دی

ویتنام جنگ کے خلاف امریکی عوام میں پائے جانے والے غصے نے رچرڈ نکسن کو "نکسن ڈاکٹرائن" اپنانے پر مجبور کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دوسری جنگِ عظیم کے اختتام اور 1954 کے جنیوا معاہدوں کے نفاذ کے بعد ویتنام شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہو گیا۔

شمالی ویتنام کو سوویت یونین، چین اور شمالی کوریا کی حمایت حاصل تھی، جبکہ جنوبی ویتنام کو جنگ کے دوران امریکہ اور مغربی ممالک کی بھرپور امداد ملی۔ پچاس کی دہائی کے وسط سے امریکہ کی مداخلت واضح ہو چکی تھی، جب واشنگٹن نے جنوبی ویتنام کو شمال کے خلاف لڑنے کے لیے بڑی مقدار میں فوجی ساز و سامان فراہم کیا۔

رچرڈ نکسن کی تصویر

ڈوائٹ آئزن ہاور اور جان کینیڈی کے ادوار میں امریکہ نے جنوبی ویتنام کو زیادہ امداد دینا شروع کی، اور لنڈن جانسن کے دورِ صدارت میں تو امریکہ نے جنگ میں براہِ راست شمولیت اختیار کر لی۔ خلیج ٹونکن کے واقعے کے بعد 1964 میں صدر جانسن نے فوجی کارروائی میں شدت کی اجازت دی، اور امریکہ نے ویتنام میں براہِ راست جنگ شروع کر دی۔ سال 1968 تک امریکی افواج کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ ہو چکی تھی۔

سال1968 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد صدر رچرڈ نکسن نے 20 جنوری 1969 کو عہدہ سنبھالا۔ انھوں نے ایک ایسا ملک پایا جہاں عوام ویتنام جنگ، بم باری اور بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی پر سخت نالاں تھے۔ درحقیقت، ویتنام جنگ کے خلاف بڑھتی عوامی مخالفت نے نکسن کی انتخابی کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کیا، کیونکہ انھوں نے اپنی مہم کے دوران جنگ ختم کرنے اور فوجیوں کی واپسی کا وعدہ کیا تھا۔

اپنے وعدے کے مطابق اور ملک میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش میں نکسن نے 25 جولائی 1969 کو جزیرہ گوام سے "نکسن نظریہ" (Guam Doctrine) کا اعلان کیا۔ اس کے مطابق، امریکہ کے اتحادیوں کو آئندہ جنگوں میں اپنی دفاعی ذمے داریاں خود نبھانا ہوں گی، البتہ امریکہ اقتصادی اور عسکری مدد فراہم کرتا رہے گا۔ نکسن نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے لیے ایٹمی چھتری فراہم کرے گا، مگر ویتنام جیسے براہ راست فوجی تنازعات سے اجتناب کرے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ اس نئی پالیسی کا مطلب امریکی دفاعی معاہدوں سے دست برداری نہیں بلکہ ان سے وفاداری ہے۔

صورة لجيمي كارتر

اسی پالیسی کے تحت نکسن نے ویتنام سے امریکی فوجیوں کے انخلا اور جنگی ذمہ داریاں جنوبی ویتنامی افواج کو سونپنے کا عمل شروع کیا، جبکہ فوجی اور لاجسٹک مدد جاری رکھی۔ اس نئی حکمتِ عملی کے تحت امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کے لیے اسلحے کی فروخت میں نمایاں اضافہ کیا۔

تاہم جب سوویت یونین نے افغانستان میں مداخلت کی، تو نکسن نظریے میں نمایاں تبدیلی آ گئی۔ جمی کارٹر کے دورِ صدارت کے آخری سال میں 1980 میں "کارٹر نظریہ" سامنے آیا، جس میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کرے گا۔

تصویری عنوان

رچرڈ نکسن کی تصویر
ویتنام جنگ میں شریک امریکی فوجی
جمی کارٹر کی تصویر
ویتنام جنگ میں زخمی ہونے والے ایک فوجی کا علاج کرتے ہوئے منظر
ویتنام جنگ میں زخمی ایک امریکی فوجی


https://ara.tv/4945t

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں