اگرچہ الیکٹرانک آلات نے ہمارے کام کو بہت آسان بنا دیا ہے لیکن وہ ہماری جلد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ یہ آلات جلد کو تیز دھوپ کی طرح نقصان پہنچاتے ہیں۔ جلد کے امراض کے ماہر ڈاکٹر سدھانت مہاجن نے بتایا کہ سکرینوں سے نکلنے والی روشنی، جسے نیلی روشنی کے نام سے جانا جاتا ہے، جلد کو بالکل اسی طرح نقصان پہنچا سکتی ہے جیسے تیز سورج کی شعاعیں کرتی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ سورج کی بالائے بنفشی (الٹرا وائلٹ) شعاعوں سے زیادہ گہرائی میں جلد میں داخل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیلی روشنی جلد کی اندرونی تہوں کو کولیجن اور ایلاسٹین کو توڑ کر نقصان پہنچا سکتی ہے جو وہ پروٹین ہیں جو جلد کو جوان اور صحت مند رکھتے ہیں۔
نتیجے کے طور پر جلد قبل از وقت عمر رسیدہ ہونے کی علامات دکھانا شروع کر دیتی ہے۔ باریک لکیریں، مدھم پن اور گہرے دھبے جلد پر نمودار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ نیلی روشنی کے وجود میں نہیں بلکہ اس میں ہے کہ ہم ان آلات کے ساتھ کتنا وقت گزارتے ہیں اور انہیں کتنی قریب سے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ 6 سے 10 گھنٹے سکرینوں کے سامنے رہنا جلد پر نقصان دہ اثرات ظاہر کرتا ہے۔
کچھ حل
اس کے علاوہ ڈاکٹر مہاجن نے جلد کی حفاظت کے لیے سادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے فون اور لیپ ٹاپ کو نائٹ موڈ میں استعمال کرنے کا مشورہ دیا تاکہ نیلی روشنی کو کم کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا اچھے جلد کی دیکھ بھال کی مصنوعات کا استعمال کیا جائے جن میں آئرن آکسائیڈ، وٹامن سی، یا نیاسینامائڈ جیسے اجزاء ہوں۔ سب سے اہم بات گھر میں رہتے ہوئے بھی سن اسکرین کا استعمال کرنا ہے۔ وہ سکرین سے باقاعدہ وقفے لینے اور آنکھوں اور جلد کو آرام دینے کے لیے وقتاً فوقتاً دور دیکھنے کی بھی سفارش کرتے ہیں۔