سائبر سکیورٹی کے محققین اور ماہر ذرائع کے مطابق فرانس کی سب سے بڑی جہاز سازی کی کمپنی "نیول گروپ" ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنی ہے۔ ویب سائٹ ’’ سائبر نیوز ‘‘ کے مطابق ہیکرز کی طرف سے آن لائن شیئر کیے گئے ڈیٹا کا نمونہ حقیقی اور حساس معلومات پر مشتمل ہے۔ یہ کمپنی فرانسیسی دفاعی شعبے کے مرکز میں سرگرم ہے جہاں ایک ہیکر نے ایک مشہور ڈیٹا لیک فورم کے ذریعے ہیکنگ آپریشن کا اعلان کیا۔
جنگی انتظامی نظام کی ہیکنگ
حملہ آوروں کے مطابق وہ فرانسیسی فوج کی آبدوزوں اور فریگیٹس میں استعمال ہونے والے جنگی انتظامی نظاموں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ عام کے برعکس حملہ آور ڈیٹا کو فروخت کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں جیسا کہ زیادہ تر ڈیٹا ہیکرز کرتے ہیں بلکہ وہ کمپنی کو اسے شائع کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کمپنی یورپی دفاعی شعبے میں ایک اہم کھلاڑی ہے جس میں 15,000 سے زیادہ افراد ملازم ہیں۔ سالانہ آمدنی 5 ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور یہ فرانسیسی ریاست کی ملکیت ہے جو تھالس گروپ کے ساتھ شراکت میں ہے۔
لیک ڈیٹا کس نوعیت کا ہے؟
ہیکرز کی طرف سے فورم میں شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق حاصل کردہ ڈیٹا میں جنگی جہازوں پر جنگی انتظامی نظاموں کا سورس کوڈ شامل ہے۔ اس کے علاوہ نیٹ ورک ڈیٹا، مختلف پابندیوں کے ساتھ تکنیکی دستاویزات، ڈویلپرز کے ورچوئل مشینوں تک رسائی اور خفیہ خط و کتابت بھی شامل ہے۔ اگر یہ لیکس صحیح ثابت ہوتی ہیں تو یہ ہیک کمپنی اور فرانسیسی قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
آبدوزوں اور فریگیٹس میں جنگی انتظامی نظاموں کے سورس کوڈ تک رسائی کسی بھی ممکنہ دشمن کے لیے ایک پرکشش ہدف ہے اور لیک کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہوگی۔ "نیول گروپ"، جس کا صدر دفتر پیرس میں ہے فرانس میں بحری دفاعی آلات کے ڈیزائن، ترقی اور تعمیر میں سب سے نمایاں اداروں میں سے ایک ہے۔ کمپنی کی جڑیں 17ویں صدی سے ہیں اور یہ فرانسیسی بحری دفاعی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔
کمپنی کے سب سے نمایاں منصوبوں میں فرانس کا واحد جوہری طیارہ بردار جہاز "چارلس ڈی گال" ہے جو اس وقت بنایا گیا تھا جب اسے بحری تعمیرات کے محکمے کے نام سے جانا جاتا تھا۔