جاپان میں گرمی کی شدت: درجہ حرارت ریکارڈ 41 ڈگری کی سطح تک پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جاپان میں بدھ کو 41.2 سینٹی گریڈ کے ساتھ درجہ حرارت میں نیا ریکارڈ اضافہ ہوا اور پہلی بار قدیم دارالحکومت کیوٹو میں بھی پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی بنا پر تمام دنیا کے درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمی حالات کی شدت دیکھنے میں آئی ہے اور جاپان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

ملک کے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ہیوگو کے مغربی علاقے میں بدھ کو نیا ریکارڈ اضافہ نوٹ کیا گیا۔

یہ ریکارڈ اس دن سامنے آیا ہے جب مشرقی روس میں 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد جاپان بھی سونامی کے لیے ہائی الرٹ پر تھا۔

سیاحتی مقام کیوٹو میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور پہلی بار اتنا بلند درجہ حرارت دیکھا گیا، حکام نے کہا۔

گذشتہ سال جاپان کا موسم گرما ریکارڈ گرم ترین تھا جو 2023 کے برابر رہا۔

جاپانی حکومت نے حالیہ دنوں میں جزیرہ نما ملک کے ایک بڑے حصے میں گرمی یا لو لگ جانے کی وارننگ جاری کی ہے کیونکہ سینکڑوں مشاہداتی مقامات پر درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔

منگل کو ملک کے طول و عرض میں 914 مشاہداتی مقامات میں سے 322 پر درجہ حرارت 35 ڈگری یا اس سے زیادہ تک پہنچ گیا جو 2010 کے بعد سے مبینہ طور پر سب سے زیادہ ہے۔

جاپان کی موسمیاتی ایجنسی (جے ایم اے) نے کہا کہ 38 مقامات پر نیا ریکارڈ درجہ حرارت دیکھا گیا جن میں وسطی جاپان میں گیفو پریفیکچر میں گوجو بھی شامل ہے جو 39.8 سینٹی گریڈ تک تھا۔

شمالی اور مشرقی علاقوں میں درجہ حرارت میں "نمایاں" اضافے کی وارننگ دیتے ہوئے جے ایم اے نے گرمی کی لہر جاری رہنے کی پیش گوئی کی۔

ادارے نے کہا، "براہ کرم ہیٹ سٹروک سمیت اپنی صحت کا خیال رکھیں۔"

ہیٹ سٹروک

جاپان میں کل 10,804 افراد کو گذشتہ ہفتے ہیٹ سٹروک کی وجہ سے ہسپتال جانا پڑا جو اس سال کی سب سے زیادہ ہفتہ وار تعداد ہے۔ جبکہ 30 جون سے چھے جولائی تک کے ایک ہفتے میں ہسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد 10,053 تھی۔

فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے بتایا کہ گرمی کی شدت سے کُل 16 افراد ہلاک ہوئے۔

ہر موسم گرما میں جاپانی حکام عوام پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہیٹ سٹروک سے بچنے کے لیے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں پناہ لیں۔

جاپان میں بزرگ افراد خاص طور پر خطرے میں ہیں۔ موناکو کے بعد دنیا کی دوسری بڑی بزرگ ترین آبادی جاپان میں ہے۔

یورپی یونین کے آب و ہوا کے مانیٹر کوپرنیکس کے مطابق مغربی یورپ میں گذشتہ ماہ جون کا گرم ترین مہینہ ریکارڈ کیا گیا اور شدید درجہ حرارت کے باعث خطے میں یکے بعد دیگرے گرمی کی لہریں دیکھی گئیں۔

جولائی میں بھی خطرناک درجہ حرارت کا سلسلہ جاری رہا جس سے لوگ بیمار ہوئے اور متوقع اموات کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی۔

لاکھوں لوگوں کو گرمی کے زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مغربی یورپ میں روزانہ اوسط درجہ حرارت اتنا بلند ہو جاتا ہے جو پہلے شاذ و نادر ہی رہا ہو اور گرمیوں میں اتنا جلدی کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے کہا کہ کئی ممالک میں 40 اور سپین اور پرتگال میں 46 ڈگری تک درجہ حرارت دیکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں