بیلجیئم : دو اسرائیلی فوجیوں سے جنگی جرائم کی تحقیقات، بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بیلجیئم نے اعلان کیا ہے کہ ماہ جولائی کے شروع میں ایک میوزک فیسٹیول میں شرکت کے لیے بیلجیئم آنے والے دو اسرائیلی فوجیوں کے بارے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں فوجیوں کو بیلجیئم پہنچنے کے بعد مختصر حراست میں بھی رکھا گیا تھا۔

تاہم جلد ہی اسرائیلی حکومت بیلجیئم کے رابطے میں آگئی۔ یہ معلوم نہیں کہ بعد ازاں حراست کے فوری ختم ہوجانے کا سبب یہی اسرائیلی حکومت بنی یا کوئی اور وجہ بنی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ فوجداری عدالت سے رجوع اس لیے کیا جارہا ہے کہ اندازہ ہو سکے کہ ان دونوں اسرائیلی فوجیوں کے جنگی جرائم میں شریک ہونے کی سطح کیا ہے۔

یاد رہے اس سے قبل بین الاقوامی فوجداری عدالت اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی کابینہ میں بطور وزیر دفاع کام کرنے والے یوو گیلنٹ کو جنگی جرائم میں مطلوب قرار دے کر دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔ مگر ابھی تک کسی عام اسرائیلی فوجی کو غزہ جنگ کے حوالے سے فوجداری عدالت نے اپنی تحقیقات کا موضوع نہیں بنایا ہے۔

لیکن اب غزہ کی جنگ میں شریک رہنے والے فوجیوں کو بھی اس ذمرے میں تحقیقات کا سامنا کرنے کی شروعات ہو رہی ہیں۔ ان دونوں فوجیوں کو جنگی جرائم کے الزام کے تحت بیلجیئم میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب ایک فلسطین کی حامی انسانی حقوق گروپ نے ان دونوں پر جنگی جرائم کا الزام لگایا اور بیلجیئم حکومت سے ان کی گرفتاری کی درخواست کی تھی۔

ابتدائی طور پر بیلجیئم حکام نے کہا تھا کہ بیلجیئم کی عدالتوں کو بھی بین الاقوامی قانون کے تحت کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ لیکن بدھ کے روز کہا گیا ہے کہ جائزہ لینے کے بعد پراسیکیوٹر آفس کو معلوم ہوا ہے کہ حکام کو یہ معاملہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سپرد کرنا چاہیے۔ کیونکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت پہلے سے ہی فلسطینی سرزمین پر کیے گئے جنگی جرائم کوبین الاقوامی قانون کی رو سے دیکھ رہی ہے۔

حکام کے مطابق ان دونوں اسرائیلی فوجیوں کے بارے میں بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کے تحت بیلجیئم پرعائد ذمہ داری کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ بیلجیئم میں ایک بڑے میوزک فیسٹیول میں شرکت کے لیے اسرائیل سے آنے والے جو دونوں فوجی اسی وقت حراست میں لیے گئے تھے۔ بیلجیئم حکومت نے ابھی تک ان کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ شہرت پانے کا حق صرف پاکستانی یا دیگر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو حاصل ہے اور انہی کے نام مغربی میڈیا سامنے لاتا ہے یا ان کی متعلقہ حکومتیں اس کی اجازت دیتی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے شروع میں ہی دونوں کو اسرائیلی شہری تسلیم کیا تھا۔ تاہم فوج سے تعلق صرف ایک کا مانا تھا۔ جبکہ بیلجیئم حکومت نے ابتدائی تحقیقات کے بعد دونوں کو اسرائیلی فوجی ہی قرار دیا تھا۔

اہم بات ہے کہ دونوں کو کچھ دیر بعد ہی رہائی دے دی گئی تھی۔ تاہم یہ معلوم نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔

ان دونوں کی بیلجیئم آمد پر نشاندہی اور ان کے خلاف جنگی جرائم میں بطور اسرائیلی فوجی ملوث ہونے کے بارے میں 'ھند رجب فاونڈیشن' نامی تنظیم نے دائر کی تھی۔ اب اس تنظیم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے کہا ہے کہ اس معاملے کو مزید تاخیر کے بغیر آگے بڑھایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں