غزہ کی صورتحال ابتر ہے، اسرائیلی ریاست نے خوراک فراہمی کی بہت کم اجازت دی ہے: جرمنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جرمنی نے غزہ میں انسانی صورتحال کو انتہائی ناگفتہ بہ قرار دیتے ہوئے کہا ہےابھی تک غزہ میں قحط جیسے ماحول کے باوجود اسرائیلی ریاست کی طرف سے ناکافی خوراک فراہم کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ جرمنی کی طرف سے یہ بات ہفتے کے روز کہی گئی ہے۔

جرمنی کے وزراء نےاس موقع پر ضروری سمجھا ہے کہ اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کو بھوک سے مارنے کی حکمت عملی کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوجائے۔

جرمنی کی طرف سے اسرائیلی ریاست پر یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب جرمن وزیر خارجہ جوناتھن وڈفل نے جمعرات اور جمعہ کےروز خطے کا دورہ کیا ہے۔جہاں امدادی اداروں نے کہا ہے کہ دو ملین سے زائد فلسطینی بھوک اور قحط کا مقابلہ کررہے ہیں۔

جرمنی نے اس دوران یہ بھی محسوس کیا ہے کہ غزہ میں خوراک کی ترسیل میں انتہائی کم بہتری ہو سکی ہے۔ جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ بات جرمن حکومت کے ترجمان سٹیفن کورنیلیس نے ایک بیان میں کہی ہے۔

ترجمان نے کہا سرائیل اس امر کا ذمہ دار ہے کہ وہ غزہ میں بھوک اور قحط جیسی صورت حال میں خوراک کی ترسیل کو مکمل بحال کرے ۔ تاکہ لاکھوں لوگوں کو قحط سے مرنے سے بچایا جا سکے۔

اسرائیلی ریاست جس نے غزہ میں طویل ترین ناکہ بندی کرکے فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کر رکھی یے ان دنوں بین الاقوامی برادری کی سخت تنقید کے سامنے ہے۔ اگر کوئی نارمل ریاست ہوتی تو وہ اس طرح اپنے زیر قبضہ علاقوں میں کم از کم بھوک کا ہتھیار استعمال نہ کرتی۔ لیکن اسرائیلی ریاست چونکہ بین الاقوامی قانون اور اقدار سے خود کو ماورا سمجھتی ہے اس لیے غزہ میں بھوک اور غذائی قلت سے لوگوں کی ہلاکتیں جاری رکھیںیوئی ہیں۔

تاہم اسرائیلی دعوی ہے کہ اس نے خوراک کے ٹرکوں کی تعداد بڑھائی ہے۔ نیز خوراک کی ترسیل کے ساتھ ساتھ ادویات کی غزہ تک رسائی کی بھی اب اجازت دی ہے۔

جبکہ بین الاقوامی امدادی ادارے دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں خوراک کی ترسیل کی مقدار اب بھی خطرناک حد تک کم ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 6000 امدادی ٹرک اسرئیلی ریاست کی اجازت کا انتظار کررہے ہیں کہ انہیں غزہ میں خوراک و امدادی سامان لے جانے کی اجازت دی جائے۔

یاد رہے اسرائیلی ریاست عام طور پر ہولو کاسٹ اور یہودیوں پر نازیت مسلط کرنے کے جرمن تاریخ کے حوالے دیتی ہے مگر اس کے باوجود جرمنی ہمیشہ اسرائیلی ریاست کے اتحادی کے طور پر اس کے ساتھ رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ نازیت کا الزام رکھنے والا ملک بھی اسرائیلی ریاست کے فلسطینیوں پر ظلم پر چیخ اٹھا ہے۔

حتی کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بھی اسرائیلی ریاست کے سب دعووں کو مسترد کررہے ہیں اور قرار دیتے ہیں کہ اسرائیلی ریاست حیلوں بہانوں سے بھوک کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

اب تک اسرائیلی ریاست مجموعی طور پر صرف غزہ میں 60249 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں سات اکتوبر کے بعد کی گئی ہلاکتوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

اسی طرح لبنان اور شام میں بھی وہاں کے شہریوں کو اسرائیلی ریاست نےالگ الگ کارروائیوں کے دوران قتل کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں