امریکہ نے مادورو کی گرفتاری پر انعامی رقم دو گنا کر دی، وینزویلا کی جانب سے مذمت
مادورو کی گرفتاری پر انعامی رقم جنوری میں 2.5 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 5 کروڑ ڈالر ہو گئی
امریکہ نے وینزویلا کے صدر نیکولاس مادورو کی گرفتاری کے لیے انعامی رقم دو گنا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم رواں سال کے آغاز میں مقرر کی گئی تھی۔ مادورو امریکی وفاقی عدالت کو منشیات اسمگلنگ کے الزامات میں مطلوب ہیں، اور اب یہ انعامی رقم 5 کروڑ ڈالر ہو گئی ہے۔
دوسری جانب کاراکاس حکومت نے واشنگٹن کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "قابلِ ترس" اور "مضحکہ خیز" قرار دیا۔ وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان خیل نے ایک بیان میں کہا "یہ قابلِ ترس ’انعام‘ ..... اب تک کا سب سے مضحکہ خیز دھوکہ ہے جو ہم نے دیکھا ہے"۔
امریکی وزیر انصاف پم بونڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں کہا "وزارتِ انصاف اور وزارتِ خارجہ 5 کروڑ ڈالر کا انعام پیش کر رہی ہیں، جو کسی ایسے شخص کو دیا جائے گا جو نیکولاس مادورو کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرے۔" جنوری میں یہ انعامی رقم 2.5 کروڑ ڈالر تھی۔
بونڈی نے ایک وڈیو بیان میں کہا کہ "موجودہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں مادورو انصاف سے نہیں بچ سکے گا اور اس کے خوف ناک جرائم کا حساب لیا جائے گا۔" انھوں نے بتایا کہ وزارتِ انصاف نے مادورو سے منسلک 70 کروڑ ڈالر سے زائد کے اثاثے ضبط کیے ہیں، جن میں دو نجی طیارے بھی شامل ہیں .... اور 70 لاکھ ٹن کوکین جو قبضے میں لی گئی، براہِ راست اس بائیں بازو کے رہنما سے جڑی ہوئی تھی۔
امریکہ کا الزام ہے کہ مادورو دنیا کے سب سے بڑے منشیات اسمگلروں میں سے ایک ہے اور وہ ایسے جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ کام کرتا ہے جو امریکہ کو فینٹانل ملے کوکین سے بھر دیتے ہیں۔ 2020 میں، موجودہ صدر ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں مادورو اور ان کے کئی قریبی اتحادیوں پر منشیات سے متعلق دہشت گردی اور کوکین درآمد کرنے کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اس وقت ان کی گرفتاری پر 1.5 کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں بائیڈن انتظامیہ نے یہ رقم بڑھا کر 2.5 کروڑ ڈالر کر دی ... جو 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کی گرفتاری پر مقرر کردہ انعام کے برابر تھی۔
بڑی انعامی رقم کے باوجود، مادورو بدستور اقتدار میں ہیں۔ انھوں نے امریکہ، یورپی یونین اور کئی لاطینی امریکی حکومتوں کی مخالفت کو نظر انداز کر دیا ہے، جنھوں نے ان کے 2024 کے دوبارہ انتخاب کو دھاندلی قرار دے کر ان کے حریف کو وینزویلا کا جائز منتخب صدر تسلیم کیا تھا۔
گزشتہ ماہ امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت کاراکاس میں قید 10 امریکی شہریوں کی رہائی کے بدلے امریکہ سے نکالے گئے درجنوں تارکینِ وطن کو سلواڈور واپس بھیج دیا گیا، جو ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن مہم کا حصہ تھا۔
اس کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس نے اپنا موقف بدلتے ہوئے امریکی تیل کمپنی شیورون کو وینزویلا میں تیل کی تلاش دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی، جو اس سے پہلے امریکی پابندیوں کے تحت ممنوع تھی۔