بھارت اور چین نے سرحدی راستوں کے ذریعے تجارت کے از سر نو اجراء کے لیے باہم بات چیت شروع کر دی ہے۔ دونوں ملکوں کی وزارت ہائے خارجہ نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ٹیرف میں کیے گئے حالیہ اضافے کی وجہ سے جو صورت حال پیدا ہو گئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ دونوں ملک اپنے ہاں پہلے سے ہونے والی سرحدی تجارت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں۔
یاد رہے ایشیا کے ان دونوں بڑے پڑوسیوں کے درمیان سرحدی تجارت کا سلسلہ تقریبا پانچ سال پہلے روک دیا گیا تھا۔ اب پیر کے روز اس سلسلے میں بات چیت دوربارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ دونوں ملک سمجھتے ہیں کہ امریکی ٹیرف کے اس حالیہ غیر معمولی اضافے کی وجہ سے دنیا کا تجارتی نظام گڑ بڑ ہو رہا ہے۔
چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تجارت غیر معمولی اونچی اور برف پوش چوٹیوں کے درمیان سے ہونے کی وجہ سے بڑے حجم کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ تاہم ایک محدود تجارت کا راستہ ضرور رہا ہے۔ اب امریکہ کی طرف سے ٹیرف کی جنگ نے ان بھارت چین رابطوں اور تجارتی بحالی کو ایک علامتی حیثیت کا حامل بنا کر اس کی اہمیت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
بھارت اور چین دہائیوں سے روائتی حریف ملک سمجھے جاتے ہیں اور دونوں کے درمیان باقاعدہ جنگ کے علاوہ سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ بھی پرانا ہے۔ وجہ اس کی سرحدی تنازعات ہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے دونوں کو ایک دوسرے کے تجارتی اور امکانی طور پر سفارتی اعتبار سے بھی قریب کرنے کا موقع پیدا کر دیا ہے۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اگلے پیر کو نئی دہلی کے دورے پر آنے والے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے بھی ان کی آمد کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل بھارتی وزیر خارجہ جے شینکر ماہ جولائی میں چین جا چکے ہیں۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں فضائی رابطوں کی بحالی اور تجارتی تعلقات کی بحالی کا بھی امکان پیدا ہو گیا ہے۔
-
بھارتی وزیرِ اعظم مودی اگلے ماہ امریکہ میں ٹرمپ سے ملاقات کر سکتے ہیں: انڈین ایکسپریس
ستمبر میں مودی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جائیں گے
بين الاقوامى -
روسی وزیرخارجہ لاوروف اگلے ہفتے بھارتی وزیرِ خارجہ سے مذاکرات کریں گے
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف 21 اگست کو بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر سے ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی سفیر کی پریانکا گاندھی کے بارے میں روائتی توہین آمیز زبان پر سخت بھارتی رد عمل
بھارتی سیاسی قائدین نے نئی دہلی میں موجود اسرائیلی سفیر کے کانگریسی رہنما پریانکا ...
ایڈیٹر کی پسند