بھارت اور چین کے پانچ سالہ تجارتی تعطل کے بعد تجارت کے دوبارہ اجراء کے لیے رابطے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت اور چین نے سرحدی راستوں کے ذریعے تجارت کے از سر نو اجراء کے لیے باہم بات چیت شروع کر دی ہے۔ دونوں ملکوں کی وزارت ہائے خارجہ نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ٹیرف میں کیے گئے حالیہ اضافے کی وجہ سے جو صورت حال پیدا ہو گئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ دونوں ملک اپنے ہاں پہلے سے ہونے والی سرحدی تجارت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں۔

یاد رہے ایشیا کے ان دونوں بڑے پڑوسیوں کے درمیان سرحدی تجارت کا سلسلہ تقریبا پانچ سال پہلے روک دیا گیا تھا۔ اب پیر کے روز اس سلسلے میں بات چیت دوربارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ دونوں ملک سمجھتے ہیں کہ امریکی ٹیرف کے اس حالیہ غیر معمولی اضافے کی وجہ سے دنیا کا تجارتی نظام گڑ بڑ ہو رہا ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تجارت غیر معمولی اونچی اور برف پوش چوٹیوں کے درمیان سے ہونے کی وجہ سے بڑے حجم کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ تاہم ایک محدود تجارت کا راستہ ضرور رہا ہے۔ اب امریکہ کی طرف سے ٹیرف کی جنگ نے ان بھارت چین رابطوں اور تجارتی بحالی کو ایک علامتی حیثیت کا حامل بنا کر اس کی اہمیت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

بھارت اور چین دہائیوں سے روائتی حریف ملک سمجھے جاتے ہیں اور دونوں کے درمیان باقاعدہ جنگ کے علاوہ سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ بھی پرانا ہے۔ وجہ اس کی سرحدی تنازعات ہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے دونوں کو ایک دوسرے کے تجارتی اور امکانی طور پر سفارتی اعتبار سے بھی قریب کرنے کا موقع پیدا کر دیا ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اگلے پیر کو نئی دہلی کے دورے پر آنے والے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے بھی ان کی آمد کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل بھارتی وزیر خارجہ جے شینکر ماہ جولائی میں چین جا چکے ہیں۔

اس پیش رفت کے نتیجے میں فضائی رابطوں کی بحالی اور تجارتی تعلقات کی بحالی کا بھی امکان پیدا ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں