غزہ میں ایک ملین بچے تعلیم سے محروم اور صدمے سے دوچار ہیں: انروا
لازارینی نے کہا غزہ کی پٹی میں 100 سے زائد بچے غذائی قلت اور بھوک کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں دس لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں اور وہ شدید نفسیاتی صدمے کا شکار ہیں۔ انہوں نے ’’ ایکس ‘‘ پر اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ 7 اگست کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں سکولوں پر اسرائیلی حملے کئی سالوں تک تعلیم میں خلل ڈالنے میں معاون ثابت ہوں گے کیونکہ ان کی مرمت اور تعمیر نو کے لیے اہم وسائل اور وقت درکار ہوگا۔ اس سب کے منفی نتائج بچوں، والدین اور اساتذہ پر مرتب ہوں گے۔
لازارینی نے مزید کہا کہ غزہ میں کم از کم 17,000 ایسے بچے ہیں جو اپنے والدین سے الگ ہیں یا ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ’’ سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل ‘‘ کے مطابق غزہ میں کم از کم 100 بچے غذائی قلت اور بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
منگل کو غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا تھا کہ 24 گھنٹے کے وقفے میں دو بچوں سمیت پانچ افراد کی موت کے بعد بھوک سے مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 227 ہو گئی ہے جن میں 103 بچے بھی شامل ہیں۔ 2 مارچ سے اسرائیل نے غزہ میں تمام گزرگاہوں کو بند کر دیا اور کسی بھی انسانی امداد کے داخلے کو روک دیا ہے۔ غزہ کی پٹی کو قحط کی حالت میں دھکیل دیا گیا ہے۔ انتہائی محدود تعداد میں امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی گئی جو آبادی کی کم از کم ضروریات کو پورا نہیں کرتے ہیں۔
لازارینی نے کہا کہ یونیسیف کے مطابق اسرائیلی بمباری اور فضائی حملوں کے نتیجے میں 40,000 سے زیادہ بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچے بچے ہی رہیں گے اور کسی کو بھی خاموش نہیں رہنا چاہیے جب وہ مر جائیں یا اپنے مستقبل سے بے دردی سے محروم ہوجائیں۔