ملازمین کی غیرقانونی برطرفی: آسٹریلوی عدالت نے قنطاس کو 59 ملین ڈالر جرمانہ کر دیا

حالیہ برسوں میں مسائل کا شکار ایئرلائن کو ایک اور دھچکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک آسٹریلوی عدالت نے پیر کے روز قنطاس پر 90 ملین آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 59 ملین امریکی ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا جس نے کووڈ-19 وبائی امراض کے دوران اپنے زمینی عملے کے 1800 ارکان کو غیر قانونی طور پر فارغ کر دیا تھا۔

فیڈرل کورٹ کے جسٹس مائیکل لی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ جرمانہ ان فرمز کے لیے ایک "حقیقی سدِ راہ" ہو جو روزگار کے قانون کی خلاف ورزی کے مالی فوائد کی طرف راغب ہو سکتی ہیں۔

اس جرمانے سے یونینز اور کمپنی کے درمیان برسوں سے جاری عدالتی جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

قنطاس نے اگست 2020 میں کارکنان کو برطرف کرنے اور ان کی جگہ لوگوں کو بیرونی ذرائع سے ملازمت پر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ لاک ڈاؤن اور سرحدی بندشوں کا دور تھا جب کوئی کووڈ-19 ویکسین موجود نہ تھی۔

بعد ازاں آسٹریلیا کی وفاقی عدالت کو پتا چلا کہ قنطاس نے اپنے بیان کردہ "تجارتی لوازمات" کے باوجود غیر قانونی عمل کیا تھا اور بعد میں اس نے ایئر لائن کی اپیل مسترد کر دی۔

طویل عرصے سے "سپرٹ آف آسٹریلیا" کے نام سے موسوم 104 سالہ قنطاس اپنی شہرت کو درست کرنے کے مشن پر ہے جسے حالیہ برسوں میں غیر قانونی برطرفیوں، ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، خراب سروس کے عدالتی دعووں اور پہلے سے منسوخ شدہ پروازوں پر نشستوں کی فروخت کے باعث نقصان پہنچا ہے۔

قنطاس کی چیف ایگزیکٹیو وینیسا ہڈسن نے 2023 میں عہدہ سنبھالا اور صارفین کو زیادہ اطمینان بخش سروس فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

عدالت نے کہا کہ قنطاس کے جرمانے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا،جس میں 50 ملین آسٹریلوی ڈالر ٹرانسپورٹ ورکرز یونین کو جائیں گے اور سابق کارکنوں کو مستقبل کی ادائیگیوں کے لیے 40 ملین ڈالر رکھ لیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں