کمزور لوگ دوبارہ بے دخلی کے قابل نہیں ... غزہ بہت سی اموات کے خطرے سےدوچار:انروا کا انتباہ

لازارینی کے مطابق انروا کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ مارچ کے بعد سے غزہ شہر میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد چھ گنا بڑھ گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ہنگامی امداد فراہم نہ کی گئی تو غزہ میں غذائی قلت کے شکار بچے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں ... بالخصوص ایسے وقت میں جب اسرائیلی فوج غزہ شہر میں اپنی فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

لازارینی جمعرات کے روز جنیوا میں پریس کلب کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ انروا کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے اب تک غزہ شہر میں غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد چھ گنا بڑھ چکی ہے۔

لازارینی کے مطابق "ہمارے پاس نہایت کمزور آبادی ہے جو ایک نئی بڑی فوجی کارروائی کا سامنا کر رہی ہے... ان میں سے بہت سوں کے پاس دوبارہ بے دخلی کے لیے درکار طاقت باقی نہیں رہی"۔

لازارینی نے فرانسیسی زبان میں فلسطینی بچوں کے بارے میں کہا "ان میں سے بہت سے زندہ نہیں بچ سکیں گے... یہ ایک مصنوعی اور جان بوجھ کر پیدا کی گئی بھوک ہے، کھانے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے"۔

بھوک کے ایک عالمی مبصر ادارے نے مئی میں رپورٹ دی تھی کہ غزہ کی پٹی میں پانچ لاکھ افراد قحط جیسی صورت حال میں ہیں، تاہم اس نے "قحط" کی اصطلاح کے استعمال سے اجتناب کیا تھا۔

ادھر اسرائیلی فوج کے زیرِ نگرانی قائم سول ایڈمنسٹریشن (کوآرڈینیشن آف گورنمنٹ ایکٹیویٹیز اِن دی ٹیریٹوریز) کا کہنا ہے کہ وہ امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بڑی کوششیں کر رہی ہے۔ مذکورہ انتظامیہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ غزہ میں امداد کے داخلے پر کوئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں