امریکی سینیٹ کے 17 ارکان نے بدھ کے روز وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ بین الاقوامی صحافت کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اسے غزہ تک رسائی کی اجازت دی جائے۔ واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسی نوعیت کی تجویز دی تھی۔
ان 17 ارکان میں 16 ڈیموکریٹس اور ایک آزاد سینیٹر برنی سینڈرز شامل ہیں۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ "امریکا کو اسرائیل پر واضح کرنا چاہیے کہ میڈیا اداروں پر پابندی لگانا، ان پر سنسرشپ نافذ کرنا اور صحافیوں کو نشانہ بنانا یا دھمکانا ناقابلِ قبول ہے اور اس پر فوراً روک لگنی چاہیے۔"
امریکی وزیرِ خارجہ کو بھیجے گئے اپنے خط میں سینیٹروں نے زور دیا کہ "وزارتِ خارجہ اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرے کہ وہ غزہ میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو جنگ زدہ فلسطینی علاقے تک رسائی کی اجازت دے، جو 22 ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے تباہ حال ہے۔"
گزشتہ ہفتے جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ اسرائیل بین الاقوامی میڈیا کو غزہ جانے کی اجازت کیوں نہیں دیتا ... تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا "اگر صحافی غزہ جائیں تو میرے لیے یہ بہت اچھا ہوگا۔ یہ صحافیوں کے لیے بہت خطرناک ہے، لیکن میں چاہوں گا کہ ایسا ہو۔"
ٹرمپ کے بیان سے 4 روز قبل ایک اسرائیلی فضائی حملے میں 6 صحافی اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ اس پر عالمی سطح پر شدید غصے کا اظہار کیا گیا۔
اپنے حالیہ خط میں امریکی قانون سازوں نے اس حملے کا حوالہ بھی دیا۔ انھوں نے کہا کہ "ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل نے کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ وہ ان صحافیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور قتل کر رہا ہے جو دنیا کو غزہ میں جاری مصائب دکھاتے ہیں"۔ قانون سازوں نے اس کو بین الاقوامی قانون کی ممکنہ خلاف ورزی قرار دیا۔
مراسلے میں مزید کہا گیا کہ "دنیا میں آزادیِ صحافت کو فروغ دینا، صحافیوں کی سلامتی کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنا، امریکا کی عالمی قیادت اور اس کے مفادات و اقدار کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔"
بدھ کی شام امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ کے مشرقِ وسطیٰ کے میڈیا آفس کے ڈائریکٹر شاہد قریشی کو اس لیے برطرف کر دیا گیا کہ انھوں نے واشنگٹن کی طرف سے غزہ میں جاں بحق صحافیوں کے لیے تعزیتی بیان جاری کرنے کی تجویز دی تھی۔
صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم "رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز" نے جولائی کے آغاز میں کہا تھا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 200 سے زیادہ مقامی صحافی مارے جا چکے ہیں۔
غزہ پر عائد سخت محاصرے کے باعث دنیا بھر کے کئی میڈیا ادارے اپنی رپورٹنگ کے لیے مقامی فلسطینی صحافیوں کی تصاویر، وڈیوز اور رپورٹوں پر انحصار کرتے ہیں۔