اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق غزہ شہر پر قبضے کا منصوبہ آج جمعرات کے روز اسرائیلی حکومت کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز اس منصوبے کی منظوری دے چکے ہیں جسے "عربات جدعون 2" کا نام دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ اس نے غزہ شہر کے نواح میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ اس پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ فوج کے ترجمان ایفی دیفرین نے کہا کہ فوج غزہ میں مہم کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "حماس اب وہ تنظیم نہیں رہی جو کارروائی سے پہلے تھی، بلکہ یہ کمزور ہو کر گوریلا تنظیم میں بدل گئی ہے۔"
اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ انھوں نے غزہ پر پہلے سے طے شدہ وقت سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ قبضہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے دفتر کے مطابق "غزہ میں حماس کے آخری گڑھ پر قبضہ کرنے اور تنظیم کو شکست دینے کے لیے وقت کا شیڈول مختصر کیا جانا چاہیے"۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
ایک برطانوی پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ وہ غزہ میں ایک غیر اسرائیلی شہری اتھارٹی چاہتے ہیں "جو امن کے ساتھ رہنے پر آمادہ ہو اور دہشت گردی کی حمایت نہ کرے"۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ غزہ میں بستیوں کی تعمیر نہیں چاہتے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ کی نسلی تطہیر سے متعلق باتیں نہ ان کی پالیسی ہیں اور نہ حکومت کی۔
اندرونی اسرائیلی مخالفت
البتہ اس منصوبے کو اسرائیل کے اندر بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ اپوزیشن کے رہنما یائر لیپڈ نے نیتن یاہو حکومت کی جانب سے غزہ پر قبضے کے لیے 60 ہزار اضافی فوجیوں کو طلب کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔
لیپڈ کے مطابق وزیر دفاع یسرائیل کاتز کا فیصلہ "غزہ پر قبضے کے وہم" کے سوا کچھ نہیں۔ انھوں نے نیتن یاہو کی حکومت کو ملک کی تاریخ کی بد ترین حکومت قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت تا حال فوج میں حریدی یہودیوں (کٹر مذہبی فرقہ) کو بھرتی کرنے سے گریزاں ہے، کیونکہ نیتن یاہو کی حکومت دائیں بازو کے ان وزیروں کے خوف سے ایسا نہیں کر رہی جو اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اس سے حکومت گرنے کا خطرہ ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق نئے فوجیوں کی تعیناتی کے بعد غزہ میں اضافی فوجیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 1.3 لاکھ ہو جائے گی۔
اپوزیشن کے موقف سے اسرائیلی عوام نے بھی اتفاق کیا ہے اور ہزاروں افراد نے حکومت کے نئے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ العربیہ اور الحدث کے نمائندے کے مطابق 60 ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے فیصلے پر اسرائیل کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، جو بعد میں فیصلے کے حامیوں اور مخالفین اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں بدل گئے۔
"عربات جدعون 2" منصوبے خد و خال
اسرائیلی فوج کے مطابق اس منصوبے کی اہم ترین خصوصیات درج ذیل ہیں:
اس میں پانچ ڈویژن شامل ہوں گی، جن کے ساتھ 12 بریگیڈ سطح کے جنگی یونٹ تعینات ہوں گے، علاوہ ازیں غزہ کے شمالی اور جنوبی ڈویژن بھی اس آپریشن کا حصہ ہوں گے۔
موجودہ فوجیوں کی لازمی سروس میں 30 سے 40 دن کا اضافہ کیا جائے گا اور ساتھ ہی تقریباً 60 ہزار اضافی فوجیوں کو طلب کیا جائے گا۔
منصوبے کے مطابق آپریشن کے عروج پر غزہ، مغربی کنارے اور شمالی محاذ پر موجود فوجیوں کی تعداد تقریبا 1.3 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
منصوبے کا آغاز غزہ شہر کے شہریوں کو انخلا کا انتباہ جاری کرنے کے ساتھ ہو گا۔ اس کے بعد ان کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور پھر شہر کا محاصرہ کیا جائے گا۔
اسی دوران بین الاقوامی اداروں کی مدد سے جنوبی غزہ میں عارضی اسپتال قائم کرنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں تاکہ غزہ شہر کو چھوڑ کر جانے والے افراد کو وہاں منتقل کیا جا سکے۔
-
امریکی قانون سازوں کا اسرائیل سے بین الاقوامی صحافت کوغزہ میں داخلے کی اجازت دینےکامطالبہ
میڈیا اداروں پر پابندی اور غزہ میں صحافیوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے، اسے ...
بين الاقوامى -
انتونیو گوتریس کی غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی ریاست نے غزہ میں نئے جنگی منصوبے پر عمل شروع کر دیا : فوجی ترجمان
اسرائیلی ریاست نے اپنے فوجی ترجمان کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ اس نے بدھ کے روز سے ...
مشرق وسطی