دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کاری فنڈ ناروے کے خودمختار دولت فنڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکی کمپنی کیٹرپلر اور متعدد اسرائیلی بینکوں سے اپنے اثاثے اخلاقی بنیادوں پر نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فنڈ کے کل اثاثے دو کھرب ڈالر سے زیادہ ہیں۔
فنڈ کے مطابق جن اسرائیلی بینکوں کو اس فیصلے میں شامل کیا گیا ہے، ان میں ہبوعلیم بینک، لیؤمی بینک، مزراہی طفحوت بینک اور فرسٹ انٹرنیشنل بینک آف اسرائیل شامل ہیں۔
غزہ میں خونی جنگ اور بستیوں کی توسیع کا پس منظر
فنڈ نے 18 اگست کو اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کی جنگ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے تناظر میں جاری اخلاقی جائزے کے بعد اسرائیلی کمپنیوں سے سرمایہ نکال لے گا، تاہم اُس وقت کسی ادارے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
اسرائیل میں سرمایہ کاری سے دستبرداری کا تعلق براہِ راست غزہ کی جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع سے ہے۔ یہ فیصلہ بڑھتے ہوئے اندرونی اور عالمی دباؤ کے نتیجے میں کیا گیا۔
ناروے کے وزیرِ مالیات کا موقف
ناروے کے وزیرِ مالیات ینس اسٹولٹن برگ نے اس موقع پر کہا کہ فنڈ نے اخلاقی تقاضوں اور سیاسی خودمختاری کے درمیان درست توازن قائم کیا ہے۔ اس بیان کو برطانوی اخبار "فائنانشل ٹائمز" نے نقل کیا۔
اس سے پہلے بھی ناروے کا یہی فنڈ اسرائیلی توانائی اور ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں کے حصص فروخت کر چکا ہے، جو مقبوضہ بستیوں سے جڑی ہوئی تھیں۔
یورپی سرمایہ کار بھی ہم آواز
صرف ناروے ہی نہیں بلکہ دیگر یورپی سرمایہ کار ادارے بھی اسرائیل سے متعلقہ کمپنیوں سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔ ان میں ناروے کا پنشن فنڈ KLP بھی شامل ہے جس نے خاص طور پر دفاعی اور سپلائی کرنے والی اُن کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے جن پر اسرائیل کی مدد کا الزام ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ناروے میں انتخابات قریب ہیں اور عوامی رائے میں اخلاقی سرمایہ کاری کے تقاضے سیاسی ایجنڈے پر مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔