غزہ جنگ، قیدیوں کے معاہدے کے لیے تل ابیب میں ہزاروں افراد کا احتجاج

اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کا اجلاس بے نتیجہ رہا: اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

منگل کے روز تل ابیب میں ہزاروں مظاہرین نے احتجاج کیا جس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کی واپسی کا معاہدہ طے کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔ ساتھ ہی اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔

اے ایف پی کے صحافیوں کی رپورٹ کے مطابق پہلا احتجاج صبح سویرے شروع ہوا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق دیگر افراد نے شہر میں امریکی سفارت خانے کی شاخ کے ساتھ ساتھ مختلف وزراء کے گھروں کے باہر ریلی نکالی۔

شام کو تل ابیب میں ہزاروں مزید لوگ "قیدی چوک" میں جمع ہو گئے جو مہینوں سے احتجاجی تحریک کا ایک مرکزی نکتہ بن گیا ہے۔

مظاہرین نے نعرے لگائے: "حکومت ہمیں مایوس کر رہی ہے، ہم تب تک ہار نہیں مانیں گے جب تک ہر قیدی گھر واپس نہ پہنچ جائے۔"

"میں یہاں سب سے پہلے احتجاج کرنے اور حکومت سے تمام قیدیوں کو گھر لانے اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرنے آیا ہوں،" 29 سالہ احتجاجی یوآو ویدر نے کہا۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کی شام ایک تقریب میں بات کی۔ جیسا کہ اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ یہ ملاقات بے نتیجہ رہی تو انہوں نے حکومت کے ارادوں کے بارے میں کوئی واضح گفتگو نہیں کی۔

انہوں نے کہا، "ہم ابھی کابینہ کی میٹنگ سے آئے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں زیادہ وضاحت کر سکتا ہوں لیکن میں ایک بات کہوں گا: یہ غزہ میں شروع ہوا تھا اور غزہ میں ختم ہو گا۔ ہم اس عفریت کو وہاں نہیں چھوڑیں گے۔"

اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی مہم ختم کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا شکار ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی نے کہا کہ امریکی صدر بدھ کے روز تباہ شدہ انکلیو کے لیے بعد از جنگ منصوبوں پر ایک اجلاس کی میزبانی کریں گے۔

کابینہ کا اجلاس

سکیورٹی کابینہ نے اگست کے اوائل میں غزہ شہر پر فوجی قبضے کے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی جس سے قیدیوں کی حفاظت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہوئے اور مظاہروں کی ایک نئی لہر میں دسیوں ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے فوری مذاکرات کا حکم دیا تھا جن کا مقصد غزہ میں باقی ماندہ تمام اسیروں کی رہائی کو یقینی بنانا تھا۔

دوحہ میں منگل کو قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک باقاعدہ نیوز کانفرنس میں کہا، ثالثین بدستور اسرائیل کی جانب سے تازہ ترین تجویز کے "جواب کا انتظار کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا، "اب ذمہ داری اسرائیل کی ہے کہ وہ موجودہ پیشکش کا جواب دے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی طرف سے کوئی بھی چیز محض سیاسی نمائش ہے۔"

دن کے اوائل میں تل ابیب میں قیدیوں کے اہلِ خانہ نے کسی ایسے معاہدے کو ترجیح دینے میں ناکامی پر حکومت پر طنز کیا جو قیدیوں کو وطن واپس لا سکے۔

"وزیرِ اعظم نیتن یاہو حماس کی تباہی کو قیدیوں کی رہائی پر ترجیح دیتے ہیں،" روبی چن نے کہا جن کا بیٹا قیدیوں میں شامل ہے۔

انہوں نے منگل کے ایک مظاہرے سے خطاب میں کہا، "ان کے خیال میں یہ درست ہے کہ سیاسی ضروریات کی خاطر 50 قیدیوں کو قربان کر دیا جائے۔"

صحافیوں کی ہلاکت

پیر کے روز غزہ کے ایک ہسپتال پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے جن میں الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کے لیے کام کرنے والے پانچ صحافی بھی شامل تھے۔

اسرائیل کے کٹر اتحادیوں سمیت دنیا کے طول و عرض میں حکومتوں نے اس حملے پر صدمے کا اظہار کیا اور اسرائیل کی مذمت کی۔

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ اس کے دو حملوں میں حماس کے ایک کیمرے کو نشانہ بنایا گیا تھا جن میں صحافی ہلاک ہوئے۔

اس میں کہا گیا، "ہلاک شدگان میں چھے دہشت گرد تھے،" اور مزید کہا کہ چیف آف سٹاف نے "کئی جگہ موجود خلا کا مزید جائزہ لینے" کی ہدایت کی جس میں "حملے سے قبل اجازت دینے کا عمل" بھی شامل ہے۔

بعد ازاں حماس نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

پریس کے نگراں اداروں کے مطابق اسرائیلی افواج کے ہاتھوں 200 کے قریب میڈیا کارکنان ہلاک ہو چکے ہیں۔

بعد ازاں منگل کو غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے فلسطینی علاقے میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 35 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں