چین اور سعودی عرب کے بیجنگ میں تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

چین کے وزیرِ تجارت نے ملک کے دورے پر آئے ہوئے سعودی وزیر برائے سرمایہ کاری سے مذاکرات میں توانائی اور سرمائے کی نئی منڈیوں میں قریبی تعلقات پر زور دیا کیونکہ بیجنگ خلیجی تجارتی معاہدے کے لیے ریاض کی حمایت کا خواہاں ہے، چینی وزارتِ تجارت نے بدھ کے روز کہا۔

بیجنگ خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات کی جستجو کر رہا ہے کیونکہ وہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ دو محاذوں پر جاری تجارتی جنگ سے نکلنے کے لیے کسی راستے کی تلاش میں ہے جنہوں نے کم قیمتوں اور اس خدشےکی بنا پر چینی اشیاء پر محصولات عائد کر دیئے ہیں کہ متعلقہ منڈیوں میں ان کا سیلاب آ جائے گا۔

منگل کو بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں چین کے وانگ وینتاؤ نے سعودی عرب کے خالد الفالح کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے پرچم بردار "بیلٹ اینڈ روڈ" کے بنیادی ڈھانچے کے اقدام کو سعودی "وژن 2030" سے ہم آہنگ کرنے کے کتنے امکانات ہیں۔

وانگ نے کہا کہ انہوں نے "دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافے، دو طرفہ سرمایہ کاری تعاون کی سطح بلند کرنے اور نئی توانائی، صنعتی فراہمی اور سرمائے کی منڈیوں جیسے شعبوں میں وسیع تعاون" کے امکانات بھی دیکھے۔

چینی کسٹم کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے گذشتہ سال سعودی عرب کو 50 بلین ڈالر سے زائد مالیت کا سامان فروخت کیا اور اس کی چوٹی کی برآمدات میں سمارٹ فونز، سولر پینلز اور سیلون کاریں شامل تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں