اقوام متحدہ کی رکنیت سے بھر پور استفادہ کرنے والی اسرائیلی ریاست نے بدھ کے روز اقوام متحدہ پر بالواسطہ طور پر ایک اور 'حملہ' کے اس کے ساتھ منسلک بھوک مانیٹر کرنے والے ادارے کو سیاست اور تعصب زدہ قرار دے دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اس ادارے نے غزہ کے کچھ حصوں میں قحط کے حوالے سے بہت دیر سے جاری کی ہے۔ جس پر اسرائیلی ریاست اس ادارے کے بھی خلاف متحرک ہے ۔
اس سے پہلے اقوام متحدہ کے کئی دوسرے ادارے بھی اسرائیلی ریاست کی غضب ناکی کا شکار بن چکے ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل نے بدھ کے روز مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی حمایت سے چلنے والا یہ ادارہ ' آئی پی سی ' اپنی رپورٹ واپس لے۔ جس میں غزہ میں قحط کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اگر اسرائیلی ریاست کے خلاف یہ رپورٹ جلد واپس نہ لی تو اسرائیلی ریاست کی طرف سے دھمکی دی گئی ہے کہ وہ اس ادارے کو سپانسر کرنے والے ملکوں کے ساتھ اس کے خلاف ڈیٹا شیئرکرے گی۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایڈن بار ٹل نے ان خیالات کا اظہار ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کیا ہے۔
مراد یہ کہ اس کی فنڈنگ کی ناکہ بندی کے لیے اسرائیل متحرک ہو جائے گا۔ اسرائیلی ریاست اپنے اثر رسوخ سے پہلے بھی بین الاقوامی اداروں کی مالی و معاشی ناکہ بندی کرا چکی ہے۔
یاد رہے اقوام متحدہ۔نے جمعہ کے روز باقاعدہ طور پر غزہ میں قحط کا اعلان کیا ہے نیز اسرائیلی ریاست کو غزہ میں منظم طریقے سے خوراک کی ترسیل میں پیدا کی گئی رکاوٹوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اٹلی میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والے اس ادارے کے مطابق غزہ میں پانچ لاکھ افراد قحط سے متاثر کو چکے ہیں۔ جوکہ غزہ کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔
اسرائیلی ریاست نے غزہ میں خوراک سمیت ادویات اور ایندھن سمیت پینے کےںپانی کیںترسیل کو بھی سخت ناکہ بندی کر کے روک رکھا ہے۔ اس وجہ سے کئی ملک اسرائیل کے اس حرب کو انسانیت کے خلاف بروئے کار اسرائیل کا غیر انسانی بھوک ہتھیار قرار دے چکے ہیں۔