مصر اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کے ممالک کی کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک غزہ میں فوری جنگ بندی تک نہیں پہنچا جاتا، اگرچہ اسرائیل نے ثالثوں کی تجویز پر کوئی مثبت ردِ عمل نہیں دیا۔
مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے جمعرات کو قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دونوں ممالک فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی اسرائیلی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں اور اسے ایک "سرخ لکیر" قرار دیتے ہیں جو کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور امدادی سامان کو مکمل اور غیر مشروط طور پر پہنچانے کے لیے دباؤ جاری رکھا جائے گا۔
مصری وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ قاہرہ اور دوحہ کی کوششیں غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے 60 روزہ جنگ بندی کے ہدف پر مرکوز ہیں، تاکہ اس مدت میں جنگ کے خاتمے پر مذاکرات ہو سکیں۔
خطے کے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں
مصری وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ خطے کے بحرانوں کے لیے کسی فوجی حل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے غزہ کی صورت حال پر دونوں ممالک کے مستقل موقف اور "مصر – قطر" کی مسلسل ثالثی کی کوششوں پر زور دیا، جو امریکا کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری ہیں۔ عبد العاطی نے کہا کہ مصر اور قطر نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مزید تناؤ سے بچانے کے لیے مشترکہ رابطہ کاری ضروری ہے، اور ایک سیاسی حل کی طرف بڑھنا ہو گا جو فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے خطے میں پائے دار استحکام کو یقینی بنائے۔
قطر کے وزیر خارجہ نے بھی عرب اور اسلامی ممالک کی ان کوششوں کو سراہا جو غزہ میں حل تک پہنچنے، جنگ بندی اور امداد کی ترسیل کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انھوں نے عالمی برادری کی غفلت پر کڑی تنقید کی جو غزہ میں نسل کشی، قحط اور محاصرے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مصر اور قطر اپنی مشترکہ کوششوں کو بد نام یا سبوتاژ کرنے کی مہم کے باوجود جنگ ختم کرنے اور حل تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر جلد اور حتمی معاہدہ ہو جائے گا۔
روئٹرز کے مطابق اس تجویز پر حماس نے اتفاق کیا ہے جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی ہوگی اور حماس 10 زندہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ 18 قیدیوں کی لاشیں حوالے کرے گی۔ اس کے بدلے میں اسرائیل کو 200 فلسطینیوں کو رہا کرنا ہوگا جو طویل سزائیں کاٹ رہے ہیں۔
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل مذاکرات صرف اسی وقت دوبارہ شروع کرے گا جب غزہ میں تمام قیدی رہا ہوں اور جنگ اسرائیل کی شرائط کے مطابق ختم کی جائے۔
-
"غزہ میں قحط انسانی ساختہ ہے" .... امریکہ کے سوا سلامتی کونسل کے تمام ارکان کا موقف
14 ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امداد کی فراہمی پر عائد تمام پابندیاں ...
بين الاقوامى -
غزہ کی سکیورٹی کے لیے مصری تربیت یافتہ فلسطینی دستے: کیا ہے اصل کہانی؟
گروپ میں تقریباً 5 ہزار فلسطینی سکیورٹی اہلکار شامل ہیں: ذرائع کی ” العربیہ ڈاٹ ...
بين الاقوامى -
غزہ میں بھوک سے 121 بچے جاں بحق .... عالمی ادارہ خوراک کا انتباہ
اقوام متحدہ کے ماہرین نے غزہ کی پٹی میں امداد کی تقسیم کے مراکز پر "جبری گمشدگی" ...
مشرق وسطی