امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ میں غیر ملکیوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے خلاف شکنجہ مزید کسنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے تاکہ امیگرنٹس سے متعلق شعبے کو اپنا کردار موثر انداز سے کرنے کا موقع مل سکے۔
اس مزید سختی برتنے کے فیصلے کی زد میں سٹوڈنٹس ،میڈیا پرسنز اور کلچرل سرگرمیوں سے متعلق وہزوں کی مدتوں پر آمریکہ آنے والوں پر پڑے گی۔
اس سلسلے میں بدھ کے روز انتظامیہ کی طرف سے مجوزہ قواعد جاری کیے گئے ہیں۔جن کے تحت امریکہ میں مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا سکے گا تاکہ وہ مدت قیام کی خلاف ورزہی کر سکیں۔
صدر ٹرمپ نے اس سلسلے میں ایک وسیع دائرے کو اندر سمیٹنے والی کوشش کا آغاز کیا ہے۔ ان کی اس مہم کا آغاز ماہ جنوری میں ہی ہو گیا تھا جب انہوں نے بطور صدرامریکی باگ ڈور سنبھالی تھی۔
اس تازہ اقدام کے نتیجے میں غیر ملکی طلبہ و طالبات، تبادلے کے پروگراموں کے تحت آنے والے صحافیوں اور ثقافتی تبادلوں کے سلسلے میں امریکہ پہنچنے والوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔۔اب ان کے ویزوں کی مدت میں اضافہ تو ہو سکے گا مگر ان کے قیام کے لیے کسی اور جواز کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی۔
نئے قواعد کے مطابق ویزوں کی مدت مقرر ہو جائے گی۔۔یہ مدت' ایف کیٹاگری ' میں آنے والے ویزوں کے تحت سٹوڈنٹ ویزوں کے لیے 'ایف ویزوں' کی کیٹاگری بروئے کار ہو گی۔
'جے ویزے' بین الاقوامی کلچرل پروگراموں کے تبادلے میں آنے وال آئیں گے۔ جبکہ' آئی ویزہ ' کیٹاگری میں میڈیا کے متعلق غیر ملکی شامل ہوں گے۔
یاد رہے امریکہ میں ایف ویزوں کے تحت پڑھنے آنے والوں کی تعداد 16 لاکھ غیر ملکی طلبہ وطالبات کی ہے۔
یہ اعدادو شمار 2024 میں امریکہ نے مرتب کیے تھے۔ اسی طرح 2024 کے دوران 355000 غیر ملکی ایکسچینج پروگرام کے ثحت امریکہ ائے تھے۔
ان میں 13000 میڈیا سے وابستہ لوگ تھے جو 2023 اور 2024 کے مشترکہ مالی سال کے دوران آئے۔امریکی مالی سال یکم اکتوبر سے شروع ہوتا ہے۔
اب ئئے مجوزہ قواعد کے مطابق سٹوڈنٹس اور دوسرے ایکسچینج پروگراموں کے تحت انے والوں کے وہزے کی مدت چار سال سے زیادہ نہیں ہو گی۔
صحافیوں کے لیے ان ویزوں کی مدت 240 دن سے زیادہ نہیں ہو گی ۔ اگر ان صحافیوں کا تعلق چین سے ہوگا تو یہ نوے دن سے زیادہ ویزہ نہیں لے سکیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے نئے قواعد کے بعد معاملات کی بہتر مانیٹرنگ ہو سکے گی۔
یاد رہے اسی طرح کی تجاویز صدر ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت میں پیش کی گئی تھیں مگر ماہرین تعلیم کی بین الاقوامی تنظیم ' نفسا ' کی درخواست پر جوبائیڈن انتظامیہ یہ تجویز واپس لے لی تھی۔ یہ تنظیم دنیا 4300 اداروں کی نمائندگی کرتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے لگ بھگ اسی کو دوبارہ پیش کیا ہے۔اس تجویز پر عوام کو تبصرہ کرنے اور اپنی آراء دینے کا موقع ہو گا ۔ اس کے بعد یہ مزید پراسس کے لیے آگے بڑھے گی۔