فلسطینی بچی ہند رجب پر فلم: بریڈ پٹ، جوکوئن فینکس کی بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر شمولیت

فلم کا بہت زیادہ انتظار ہے، کئی فلمی میلوں میں پیش کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ہالی ووڈ کی معروف شخصیات بریڈ پٹ اور جوکوئن فینکس نے ستاروں کے ایک گروپ میں شمولیت اختیار کی ہے جو اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں ایک فلسطینی بچی ہند رجب کے قتل کے بارے میں ایک فلم دی وائس آف ہند رجب پر کام کر رہے ہیں۔ اس فلم کا تین ستمبر کو وینس فلم فیسٹیول میں افتتاح ہونے والا ہے۔

اداکار ہالی ووڈ کے بڑے ناموں کے ہمراہ ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر فلم میں شامل ہوں گے جن میں جوناتھن گلیزر، رونی مارا اور الفونسو کیورون شامل ہیں۔

تیونس کی ہدایت کارہ کوثر بن ہنیہ کی آئندہ فلم میں ہند کی آواز کی اصل ریکارڈنگز پیش کی گئی ہیں جو طبی ماہرین سے فون پر مدد کے لیے التجا کرتی ہیں۔ پھر اس گاڑی کو مبینہ طور پر 300 سے زیادہ گولیاں لگیں جس میں وہ سوار تھیں۔

اسرائیلی فوجیوں نے جنوری 2024 میں چھ سالہ فلسطینی بچی کو خاندان کے چھے افراد سمیت قتل کر دیا تھا۔ ہند اور ان کا خاندان غزہ شہر سے فرار ہو رہا تھا جب اسرائیلی افواج نے ان کی گاڑی پر گولہ باری کی جس سے ان کے چچا، خالہ اور تین کزن ہلاک ہو گئے۔

ہند اور ان کا کزن ابتدائی طور پر بچ گئے تھے اور انہوں نے مدد کے لیے گاڑی سے فون پر فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی (پی آر سی ایس) سے رابطہ کیا۔ گاڑی بعد میں رجب اور مدد کے لیے آنے والے معاون طبی عملے کے ساتھ برآمد ہوئی جو سبھی گولیاں لگنے سے ہلاک ہو گتے تھے۔ اس واقعے کے خلاف عالمی سطح پر بشمول کولمبیا یونیورسٹی میں احتجاج کیا گیا جہاں طلباء نے ہیملٹن ہال کا نام بدل کر ہند'ز ہال رکھ دیا۔

اسرائیلی حکام نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جس علاقے میں ہند اور دیگر افرادِ خانہ ہلاک ہوئے، وہاں فوجی موجود نہیں تھے۔ بیان میں رجب اور پی آر سی ایس کے درمیان ہونے والی فون کال کی تردید کی گئی جس نے اسرائیل پر طبی ٹیم کو دانستہ نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

ہند رجب کی آواز (دی وائس آف ہند رجب)

فلم میں ہند کی حقیقی آڈیو شامل ہے جو اس موسمِ خزاں میں ٹورنٹو، سان سیباسٹین، بوسان اور لندن کے فلمی میلوں میں بھی پیش کی جائے گی۔ فلم کا بڑے پیمانے پر انتظار ہے۔

اپنی فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہدایت کارہ بِن ہنیہ نے کہا: "میں ایسی دنیا کو قبول نہیں کر سکتی جہاں کوئی بچہ مدد کے لیے پکارے اور کوئی نہ آئے۔ وہ تکلیف، وہ ناکامی ہم سب کی ہے۔"

"مجھے یقین ہے کہ افسانوی کہانی (خاص طور پر جب یہ تصدیق شدہ، دردناک، حقیقی واقعات سے ماخوذ ہو) سنیما کی طاقتور ترین شے ہے۔ بریکنگ نیوز کے شور یا سکرولنگ کی فراموشی سے زیادہ طاقتور۔ سنیما یادداشت کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ سنیما فراموشی کا مقابلہ کر سکتا ہے،" انہوں نے مزید کہا۔

ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر پروجیکٹ میں شامل ہونے والی دیگر اعلیٰ شخصیات میں صحافی سے پروڈیوسر بننے والی جمائما خان، کینیڈین بزنس مین اور لائنزگیٹ کے سابق بانی فرینک گیسٹرا اور جیولری ڈیزائنر اور سوشلائٹ سبین گیٹی شامل ہیں۔

ہالی ووڈ اور عموماً مغرب کی تفریحی صنعت غزہ میں اسرائیلی مظالم پر خاموش ردِعمل کے لیے وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنی ہے۔ تاہم بعض نمایاں ناموں نے اس جنگ پر اظہارِ خیال کیا جن میں اداکار مارک روفالو، گلوکار میکل مور، بلی ایلش، کیہلانی، ٹلڈا سوئنٹن، سوسن سارینڈن اور دیگر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size