1807 میں نپولین کی وجہ سے برطانیہ نے ڈنمارک کے دارالحکومت کو تباہ کر دیا
کوپن ہیگن پر بمباری سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، ڈینش دارالحکومت کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا
انیسویں صدی کے آغاز سے دنیا نیپولین جنگوں سے گزر رہی تھی یہ سلسلہ 1815 تک جاری رہا اور اس کے نتیجے میں لاکھوں اموات ہوگئیں۔ نپولین کی جنگوں کے اثرات دنیا کے کئی خطوں تک بھی پہنچے۔ یورپ میں ان جنگوں نے براعظم کی سرحدوں کو دوبارہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ میں نپولین کی جنگوں نے کئی ہسپانوی کالونیوں اور برازیل کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا جو صدیوں سے پرتگالی حکمرانی کے تحت تھے۔ دریں اثنا یہ جنگ ڈنمارک ناروے کی بادشاہی تک بھی پہنچ گئی۔ اپنی غیرجانبداری کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے باوجود نپولین بوناپارٹ کے دباؤ کی وجہ سے مؤخر الذکر کو جنگ میں کھینچ لیا گیا۔
ڈنمارک کی غیر جانبداری
1806 میں نپولین بوناپارٹ نے برطانیہ کے خلاف کانٹی نینٹل ناکہ بندی کی پالیسی شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس انتظام کے تحت فرانسیسی شہنشاہ نے کئی یورپی ملکوں کو برطانیہ کے ساتھ تجارت روکنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے یہ اس امید پر کیا اس سے برطانیہ کی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ ان واقعات کے درمیان ڈنمارک نے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھی اور برطانیہ کے ساتھ اپنی معمول کی تجارت کو جاری رکھا۔
اسی دوران نپولین بوناپارٹ نے ڈنمارک کی اس پالیسی کو مسترد کر دیا۔ رفتہ رفتہ فرانسیسی شہنشاہ نے ڈنمارک پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ براعظمی ناکہ بندی میں حصہ لینے پر مجبور ہوجائے۔ برطانیہ کو یہ بھی خدشہ تھا کہ ڈنمارک نپولین کے دباؤ کے سامنے جھک جائے گا اور براعظمی ناکہ بندی اور جنگ میں شامل ہو جائے گا۔ اس وقت برطانوی حکام نے ڈنمارک کے جنگی بحری بیڑے کے فرانسیسی ہاتھوں میں جانے کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ڈنمارک کے پاس تقریباً 15 فریگیٹس کے علاوہ 60 سے 80 کے درمیان بندوقوں سے لیس 18 جنگی جہازوں پر مشتمل ایک بڑی بحریہ تھی۔ اس صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے برطانیہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آگے بڑھا۔
کوپن ہیگن پر بمباری
ڈنمارک کے بحری جہازوں کو نپولین بوناپارٹ کے ہاتھ میں جانے سے روکنے کے لیے پیشگی کارروائی کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔ برطانوی جنگی جہازوں نے 2 اور 5 ستمبر 1807 کے درمیان ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کا محاصرہ کیا اور بمباری کردی۔ بمباری کے نتیجے میں کم از کم 3,000 افراد ہلاک ہوگئے اور کوپن ہیگن کے ایک اہم حصہ تباہ ہوگیا۔ مزید بمباری کے خطرے کا سامنا کرتے ہوئے ڈینز نے ہتھیار ڈال دیے اور اپنی پوری بحریہ کو برطانیہ کے حوالے کرنے پر راضی ہو گئے۔ برطانیہ نے ڈنمارک کے تمام بحری جہازوں پر قبضہ کر لیا۔
کوپن ہیگن پر بمباری سے بین الاقوامی غم و غصہ پیدا ہوگیا۔ ہر کسی نے اسے ایک غیر جانبدار ملک پر بلا جواز حملہ قرار دیا۔ مزید برآں بمباری کے نتیجے میں روس- برطانوی جنگ شروع ہوگئی جو 1812 تک جاری رہی۔