پاکستان اور چین کے مابین ساڑھے آٹھ ارب ڈالر مالیت کے مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں

مفاہمت کی یادداشتوں پر عملدرآمد دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہو گا: وزیر اعظم شہباز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

چین اور پاکستان کے مابین زراعت ،الیکٹرک وہیکلز ،شمسی توانائی، صحت، کیمیکل وپیٹرو کیمیکلز، آئرن اور سٹیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے 8 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کے مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کے مشترکہ شراکت داروں کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدوں کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالر ہے۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے جن کی مالیت سات ارب ڈالر ہے یوں مجموعی طور پر آج دستخط ہونے والے مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی مالیت آٹھ ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف چار ستمبر 2025 کو بیجنگ میں دوسری پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے (وزیراعظم آفس)
وزیراعظم محمد شہباز شریف چار ستمبر 2025 کو بیجنگ میں دوسری پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے (وزیراعظم آفس)

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور مشترکہ منصوبوں پر اگر ہم عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے لانگ مارچ ہوگا۔

’یہ لانگ مارچ بیجنگ سے شروع ہو کر اسلام آباد اپنی منزل پر پہنچ کرختم ہوگا اور یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی اور منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے۔‘

وزیراعظم محمد شہباز شریف چار ستمبر 2025 کو بیجنگ میں دوسری پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے (وزیراعظم آفس)
وزیراعظم محمد شہباز شریف چار ستمبر 2025 کو بیجنگ میں دوسری پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے (وزیراعظم آفس)

انہوں کہا کہ زرعی شعبے میں پاکستان چینی سرمایہ کاروں کے تجربے اور مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، معدنیات، کان کنی اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کریں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور دیگر وزرا چار ستمبر 2025 کو بیجنگ میں دوسری پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب میں شریک ہیں (وزیراعظم آفس)
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور دیگر وزرا چار ستمبر 2025 کو بیجنگ میں دوسری پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب میں شریک ہیں (وزیراعظم آفس)

بقول وزیراعظم: ’پاکستان کی افرادی قوت سستی ہے اور چین اپنی صنعتیں پاکستان منتقل کر کے زیادہ منافع کما سکتا ہے۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ 2015 میں پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) پر معاہدے کے بعد سے چینی کمپنیوں نے پاکستان میں 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس سے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوا، صنعتیں بحال ہوئیں اور اورنج لائن سمیت بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شروع ہوئے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور دیگر وزرا چار ستمبر 2025 کو بیجنگ میں دوسری پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب میں شریک ہیں (وزیراعظم آفس)
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور دیگر وزرا چار ستمبر 2025 کو بیجنگ میں دوسری پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب میں شریک ہیں (وزیراعظم آفس)

وزیراعظم نے اس موقعے پر یقین دلایا کہ چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور ان کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اب مستحکم معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے اور قلیل، وسط اور طویل المدتی سطح پر مثبت اقتصادی اشاریے نظر آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں