ٹرمپ کا ویکسین میں "تھیمرسول" نامی خطرناک مواد کی موجودگی کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی سوشل پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں یہ غیر مصدقہ دعوے کیے گئے کہ ویکسین میں شامل اجزاء زہریلے ہیں۔

ویڈیو میں محققین مارک اور ڈیوڈ گائر (باپ بیٹا) نظر آئے، جنہوں نے کہا کہ ویکسین میں بطور محافظ استعمال ہونے والا تھیمرسول (Thimerosal) "زہریلا" ہے اور آٹزم سمیت دیگر اعصابی مسائل پیدا کرتا ہے۔ تاہم، بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے امریکی مراکز (CDC) نے اس بات پر زور دیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ مادہ صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیرِ صحت رابرٹ کینیڈی جونیئر نے ڈیوڈ گائر کی خدمات ویکسین کی سلامتی سے متعلق معاملات میں حاصل کی تھیں، اگرچہ اس کا کردار اب تک واضح نہیں۔

مزید یہ کہ 2012 میں میری لینڈ کے میڈیکل بورڈ نے گائر کو بغیر لائسنس طب کی مشق کرنے پر مجرم قرار دیا تھا، کیونکہ اس پر آٹزم کے شکار بچوں کو خطرناک اور غیر مصدقہ علاج تجویز کرنے کے الزامات تھے۔

کئی تجربات نے اس بات کو ثابت کیا کہ تھیمرسول پر مشتمل ویکسین محفوظ ہیں، لیکن پھر بھی یہ مادہ 2001 سے بچوں کی زیادہ تر ویکسینز سے ہٹا دیا گیا ہے، اور اب یہ صرف شاذونادر ہی بعض دیگر ویکسینز میں استعمال ہوتا ہے۔

اسی طرح، متعدد تحقیقی رپورٹس نے ویکسین اور آٹزم کے درمیان تعلق کے دعوے کو مسترد کیا ہے، جبکہ دہائیوں کی تحقیق ابھی تک اس بیماری کی کوئی واحد وجہ متعین نہیں کر سکی۔

ٹرمپ کی ویڈیو اس وقت سامنے آئی ہے جب چند دن پہلے انہوں نے ویکسین کی حمایت میں بیانات دیے تھے، ایسے وقت میں جب کینیڈی کے ویکسینز سے متعلق مؤقف پر تنازعہ جاری ہے۔

جون میں، کینیڈی نے ویکسین ایڈوائزری کمیٹی کے کئی اراکین کو برطرف کر دیا تھا اور ان کی جگہ نئے افراد تعینات کیے، جن میں سے بیشتر کورونا ویکسین کے ناقد تھے۔

کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں "تھیمرسول" پر بھی غور کیا گیا اور اسے کثیر خوراکی ویکسینز سے ہٹانے پر ووٹ دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں