بھارتی سکیورٹی فورسز نے مسلح جھڑپ میں ایک اعلیٰ ماؤنواز کمانڈر اور نو دیگر گوریلوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جیسا کہ وہ دیرینہ تنازعے کو کچلنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں، ایک اہلکار نے جمعہ کو اے ایف پی کو بتایا۔
بھارت نکسلی بغاوت کے آخری باقی ماندہ نشانات کے خلاف ہر طرح کی کارروائی کر رہا ہے جس کا نام کوہِ ہمالیہ کے دامن میں واقع اس گاؤں کے نام پر رکھا گیا ہے جہاں تقریباً چھے عشرے قبل ماؤ سے متأثر گوریلا تحریک شروع ہوئی تھی۔
مٹھی بھر دیہاتیوں کی 1967 میں اپنے جاگیرداروں کے خلاف بغاوت کے بعد سے اب تک 12,000 سے زیادہ باغی، فوجی اور شہری اس تنازعے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
سینئر پولیس افسر وویکانند سنہا نے بتایا کہ تازہ ترین مسلح جھڑپ اڈیشہ اور چھتیس گڑھ ریاستوں کے درمیان جنگلاتی سرحد کے ساتھ جمعرات کو رات کے وقت ہوئی۔
سنہا نے اے ایف پی کو بتایا، "ہلاک شدگان میں مودم بال کرشنا بھی شامل ہے جو اڈیشہ میں ماؤ نواز تنظیم کا انچارج تھا اور اسے کئی دوسرے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔"
بال کرشنا کی گرفتاری کے لیے 114,000 امریکی ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔
اگلے سال مارچ کے آخر تک ماؤ نواز بغاوت کو کچلنے کا عزم ظاہر کرنے والے وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے تازہ ترین کارروائی کی ستائش کی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، باقی نکسل باغیوں کو بھی وقت پر خود کو ریاست کے سپرد کر دینا چاہیے۔
دو ہزار کے عشرے کے وسط میں ایک اندازے کے مطابق 15,000 سے 20,000 باغیوں کے ساتھ یہ بغاوت ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے پر عروج پر تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق "ریڈ کوریڈور" کے طول و عرض میں بھارتی فوجیوں کے کریک ڈاؤن میں گذشتہ سال سے اب تک 400 سے زائد باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔
گروپ کے سربراہ نمبالا کیشو راؤ عرف بسوا راجو کو 26 دیگر گوریلوں کے ساتھ مئی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اس تنازعے میں حکومتی افواج پر کئی مہلک حملے بھی ہوئے ہیں۔ جنوری میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے کم از کم نو بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔