نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہر میں فلسطینیوں کے حق میں ریلی، 50 ہزار افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ میں ہزاروں افراد نے فلسطینیوں کے حق میں نکالی جانے والی ایک ریلی میں شرکت کی۔ منتظمین کے مطابق یہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد کی سب سے بڑی یکجہتی ریلی تھی۔

"اوتیاروا فار فلسطین" نامی تنظیم نے بتایا کہ ہفتے کی صبح شہر کے وسط میں "انسانیت کے لیے مارچ" کے عنوان سے منعقدہ ریلی میں تقریباً 50 ہزار افراد شریک ہوئے، جب کہ نیوزی لینڈ پولیس نے یہ تعداد 20 ہزار کے لگ بھگ بتائی۔

تنظیم کی خاتون ترجمان آرام راتا نے کہا کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد یہ نیوزی لینڈ میں فلسطینیوں کے حق میں سب سے بڑی ریلی تھی۔

ریڈیو نیوزی لینڈ کے مطابق ریلی کے شرکا نے بڑی تعداد میں فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور بینروں پر نعرے درج تھے جن میں سے ایک تھا "نسل کشی کو معمول نہ بناؤ"۔

راتا نے مزید بتایا کہ منتظمین کا ارادہ تھا کہ ریلی کے دوران شہر کے مرکزی پل کو بند کیا جائے، جیسا کہ اگست میں سڈنی کے مشہور ہاربر برج پر احتجاج کے دوران کیا گیا تھا تاہم جمعے کو شدید ہواؤں کے باعث اس منصوبے کو ترک کر دیا گیا۔

نیوزی لینڈ میں فلسطینیوں کے حق میں نکالی گئی ریلی
نیوزی لینڈ میں فلسطینیوں کے حق میں نکالی گئی ریلی

پولیس نے کہا کہ ریلی کے دوران کوئی گرفتاری نہیں ہوئی اور بند کی گئی سڑکیں دوبارہ کھول دی گئیں۔

"اوتیاروا فار فلسطین" نے نیوزی لینڈ کی دائیں بازو کی مخلوط حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں۔

یاد رہے کہ وزیرِاعظم کرسٹوفر لوکسون نے اگست میں غزہ میں انسانی امداد کی کمی سمیت اسرائیلی اقدامات کو "انتہائی خوف ناک" قرار دیا تھا۔ حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا وہ فلسطینی ریاست کو با ضابطہ تسلیم کرے یا نہیں۔

دوسری طرف نیوزی لینڈ کی یہودی کونسل جو ملک میں آباد تقریباً 10 ہزار یہودیوں کی نمائندگی کرتی ہے، اس نے اس ریلی پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا اب تک جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size