روسی تیل کی خریداری، یوکرین کا بھارتی ڈیزل کی درآمد روکنے کا فیصلہ: تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یوکرین انرجی کنسلٹنسی اینکور نے پیر کو کہا ہے کہ یوکرین یکم اکتوبر سے بھارت میں پیدا ہونے والے ڈیزل ایندھن کی درآمد پر پابندی لگا دے گا جو اپنے خام تیل کا ایک بڑا حصہ روس سے خریدتا ہے۔

ایک اور کنسلٹنسی اے-95 نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ اس موسم گرما میں یوکرین کی ایک اہم آئل ریفائنری کے نقصان نے تاجروں کو بھارت سے ڈیزل ایندھن خریدنے اور درآمدات کے ساتھ معاوضہ ادا کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ یوکرین کی وزارتِ دفاع نے بھی بعض بھارتی ایندھن خریدا ہے کیونکہ یہ بعد از سوویت دور کے معیارات پر پورا اترتا تھا۔

روس یوکرین کی آئل ریفائنری اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کر رہا ہے۔

اینکور نے کہا ہے کہ یوکرین کے سکیورٹی اداروں نے حکم دیا ہے کہ درآمد شدہ بھارتی ڈیزل ایندھن کی تمام ترسیل کا لیبارٹری تجزیہ ہونا چاہیے تاکہ روسی اجزاء کی موجودگی کا سراغ مل سکے۔

اینکور نے کہا کہ یوکرین نے اگست میں 119,000 ٹن بھارتی ڈیزل ایندھن درآمد کیا جو ڈیزل کی مجموعی درآمدات کا 18 فیصد تھا۔ روس سے 2022 میں مکمل جنگ شروع ہونے سے پہلے یوکرین نے ملکی پیداوار کی کمی پوری کرنے کے لیے بنیادی طور پر بیلاروس اور روس سے ڈیزل ایندھن درآمد کیا تھا۔

اس نے 2022 سے بنیادی طور پر یورپی ممالک سے ایندھن درآمد کیا ہے۔

اے-95 نے کہا کہ سال کی پہلی ششماہی میں ڈیزل ایندھن کی درآمدات سال بہ سال 13 فیصد کم ہو کر 2.74 ملین میٹرک ٹن رہ گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں