امریکہ نے ایران کی حمایت یافتہ 4 گروہوں کو دہشت گرد قرار دے دیا

ایران پر براہ راست حملوں کی منصوبہ بندی اور حمایت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے تحت تہران کے حمایت یافتہ کئی گروہوں کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ تحریک النجباء، کتائب سید الشہداء، حرکت انصار اللہ الاوفیاء اور کتائب الامام علی کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران ان گروہوں کو ایسا تعاون فراہم کر رہا ہے جس سے وہ پورے عراق میں حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری یا براہِ راست کارروائیاں انجام دے سکیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ان گروہوں نے ماضی میں بغداد میں امریکی سفارت خانے اور ان اڈوں پر حملے کیے جہاں امریکہ اور اتحادی افواج موجود تھیں۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند گھنٹے قبل ہی امریکی وزارت خزانہ نے ایرانی مالیاتی ثالثوں اور 10 سے زائد افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ تیل کی آمدنی کو قدس فورس اور ایرانی وزارت دفاع تک منتقل کرنے میں کردار ادا کر رہے تھے۔

وزارت خزانہ نے وضاحت کی کہ یہ نیٹ ورکس "شیڈو بینکوں" کی طرح کام کرتے ہیں، تاکہ پابندیوں سے بچنے کے لیے فرنٹ کمپنیوں اور کرپٹو کرنسیوں کا استعمال کریں اور اس آمدنی سے مسلح گروہوں کو مالی مدد کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ، بشمول میزائل اور ڈرونز، تیار کیے جاتے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے عہدیدار جون کے ہیرلی نے کہا کہ ایرانی ادارے ان غیر رسمی بینکوں پر انحصار کرتے ہیں تاکہ پابندیوں سے بچ کر لاکھوں ڈالر بین الاقوامی مالیاتی نظام میں منتقل کر سکیں۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ان مالیاتی ذرائع کو توڑنے کے لیے پُرعزم ہے جو ایران کے اسلحہ پروگرام اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر خطوں میں اس کی سرگرمیوں کو سہارا دیتے ہیں۔

یہ اقدام صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی سے متعلق صدارتی یادداشت نمبر 2 کے مطابق ہے، جس کا مقصد ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال کر اس کے نظام اور اتحادیوں کو مالی وسائل سے محروم کرنا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کر رہا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول آفس (OFAC) 30 سے زائد ایرانیوں اور ان سے وابستہ اداروں پر پابندیاں لگا چکا ہے جنہوں نے ایرانی منی ایکسچینج اور غیر ملکی فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے اربوں ڈالر بین الاقوامی مالیاتی نظام میں منتقل کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں