غزہ منصوبہ قبول کرنے کے لیے امریکی دباؤ ... نیتن یاہو کے انکار کا راز کیا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے مغربی کنارے کے حصے ضم کرنے اور غزہ میں جنگ جاری رکھنے کی دھمکیوں پر ردِ عمل میں کہا ہے کہ "اب رکنے کا وقت آ گیا ہے"۔

جمعرات کی شب وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے ضم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے الفاظ میں "میں یہ ہونے نہیں دوں گا… اب بہت ہو گیا، اب رکنے کا وقت ہے"۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب نیتن یاہو کو اپنی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔

نیتن یاہو اس وقت نیویارک میں ہیں جہاں وہ جمعے کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ ان کے دفتر نے کہا کہ وہ اسرائیل واپسی پر ہی ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کریں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ نیتن یاہو غزہ میں جنگ بندی پر مبنی ٹرمپ کی امن تجویز قبول کریں اور ممکنہ طور پر فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کا انتظام سنبھالنے دیں۔

امن منصوبہ

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ نے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے جس پر آئندہ دنوں میں پیش رفت کا امکان ہے۔ یہ منصوبہ منگل کو نیویارک میں ٹرمپ اور وٹکوف کی موجودگی میں کچھ عرب اور اسلامی ملکوں کے رہنماؤں کو پیش کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں کئی نکات شامل ہیں : تمام باقی ماندہ قیدیوں کی رہائی، جنگ بندی اور فائر بندی کا مستقل نفاذ، پوری غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا بتدریج انخلا، غزہ میں ایسا نظامِ حکومت قائم کرنا جس میں حماس شامل نہ ہو، فلسطینیوں اور عرب و اسلامی ملکوں کے اہل کاروں پر مشتمل ایک سکیورٹی فورس تشکیل دینا، عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے مالی معاونت اور غزہ کی تعمیرِ نو اور فلسطینی اتھارٹی کو محدود کردار دینا۔

تاہم نیتن یاہو منصوبے کے کئی پہلوؤں سے نا خوش ہیں۔ بالخصوص اس بات پر کہ اس میں حماس یا مجموعی طور پر غزہ کے مکمل غیر مسلح ہونے کی شرط شامل نہیں کی گئی، بلکہ یہ عمل جنگ کے اختتام کے بعد رکھا گیا ہے۔ مزید برآں وہ فلسطینی اتھارٹی کو کسی بھی انتظامی کردار دینے کے مخالف ہیں۔

اس سے قبل نیتن یاہو کی حکومت نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ شرائط رکھی تھیں : حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا، تمام قیدیوں کی واپسی (زندہ اور مردہ)، غزہ سے اسلحے کا خاتمہ، اسرائیلی سلامتی کنٹرول ... اور ایک سول انتظامیہ کا قیام جس میں حماس اور فلسطینی اتھارٹی کا کوئی کردار نہ ہو۔

نیتن یاہو پیر کو ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ روانگی سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ وہ چوتھی بار صدر سے ملیں گے اور "اسرائیلی فتوحات سے پیدا ہونے والے عظیم مواقع اور جنگ کے مقاصد کو مکمل کرنے کی ضرورت" پر بات کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں