غزہ،اسرائیلی ٹینکوں کی بڑی پیش قدمی،امدادی تنظیموں کو زخمیوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا

اسرائیل نے بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے بھیجی گئی 73 درخواستوں کو مسترد کر دیا جن کا مقصد غزہ شہر سے زخمی فلسطینیوں کو باہر لے جانا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی ٹینکوں نے اتوار کو غزہ شہر کے گنجان آباد رہائشی علاقوں میں بڑی پیش قدمی کی۔ مقامی محکمہ صحت کے مطابق وہ امداد کی درجنوں پکاروں کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ محکمے نے نشانہ بننے والے علاقوں میں شہریوں کے حالات پر شدید تشویش ظاہر کی۔

عینی شاہدین اور امدادی کارکنوں کے مطابق اسرائیلی افواج نے صبرہ، تل الہوا، الشیخ رضوان اور النصر کے محلوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں۔ یہ علاقے شہر کے قلب اور مغربی حصوں کے قریب ہیں جہاں لاکھوں افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ اسرائیلی فوج نے 16 ستمبر کو زمینی کارروائی شروع کی تھی۔ اس سے قبل کئی ہفتوں تک فضائی بم باری جاری رہی جس نے ہزاروں کو بے گھر کر دیا، اگرچہ بڑی تعداد میں لوگ اب بھی وہیں ہیں۔

فلسطینی شہری دفاع کے ادارے نے کہا ہے کہ اسرائیل نے بین الاقوامی تنظیموں کی 73 امدادی درخواستوں کو مسترد کیا جو زخمیوں کو نکالنے سے متعلق تھیں۔ اسرائیلی حکام نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ فوج کے مطابق اس نے شہر میں کارروائیاں وسیع کر دی ہیں اور پانچ جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا جنہوں نے ٹینک شکن میزائل داغا تھا۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فضائیہ نے 140 سے زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں جنگجو اور عسکری ڈھانچے شامل تھے۔ مقامی محکمہ صحت کے مطابق النصر محلے میں ایک فضائی حملے میں کم از کم پانچ افراد مارے گئے، جبکہ وسطی غزہ میں گھروں پر حملوں میں مزید 16 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس طرح اتوار کو ہلاکتوں کی تعداد 21 تک پہنچ گئی۔

محاصرے نے غزہ میں انسانی بحران کو شدید تر کر دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس ماہ شہر کے چار طبی مراکز بند ہو چکے ہیں۔ عالمی غذائی پروگرام کے مطابق گزشتہ ماہ سے اب تک 35 سے 40 ہزار لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں، تاہم لاکھوں اب بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اگست میں شہر میں تقریباً دس لاکھ فلسطینی مقیم تھے۔

اسرائیل نے حملوں کی جوابی مہم تقریباً دو سال قبل 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اس حملے کے بعد شروع کی تھی جس میں اسرائیلی دعوے کے مطابق 1200 افراد مارے گئے اور 251 کو قید بنایا گیا۔ غزہ کے صحت حکام کے مطابق اس اس وقت سے اب تک غزہ کی پٹی میں 65 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور صحت کا نظام مفلوج ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں