عالمی رہنماؤں اور مختلف ممالک نے منگل کو غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک روز قبل پیش کردہ امن تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے تجویز کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
اس 20 نکاتی منصوبے میں فوری جنگ بندی، اسرائیل کے زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کا حماس کے پاس موجود اسرائیلی قیدیوں سے تبادلہ، غزہ سے اسرائیلی انخلاء، حماس کو غیر مسلح کرنا اور ایک بین الاقوامی ادارے کی سربراہی میں عبوری حکومت کا قیام شامل ہیں۔
یورپی کمیشن
یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین نے منگل کو ٹرمپ کی امن تجویز کا خیرمقدم کیا۔
"صدر ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے عزم کا خیرمقدم۔ میں تمام فریقین کو اب اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتی ہوں۔ یورپی یونین تعاون کے لیے تیار ہے،" انہوں نے ایکس پر لکھا۔
انہوں نے مزید کہا، "غزہ کی آبادی کو فوری انسانی امداد کی فراہمی اور تمام قیدیوں کی فوری رہائی کے ساتھ دشمنی ختم ہونی چاہیے۔"
جرمنی
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی ٹرمپ کے منصوبوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے انکلیو میں جنگ کے خاتمے کا بہترین موقع پیش کیا۔
جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے کہا، "جرمنی اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس تعاون کرنے کو تیار ہے۔" نیز کہا کہ مرز نے حماس کے زیرِ حراست جرمن قیدیوں کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی تھی۔
چین
چین نے منگل کو کہا ہے کہ وہ غزہ میں کشیدگی میں کمی کے لیے "تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے"۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا، "فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے چین تمام سازگار کوششوں کا خیرمقدم اور حمایت کرتا ہے۔"