امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے حوالے سے پیش کی جانے والی نئی امن اسکیم پر اسرائیلی حلقوں میں اختلافات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس پر اپنا مؤقف ظاہر کیا ہے۔
قیدیوں کی رہائی کی منصوبہ بندی
نیتن یاھو نے اعلان کیا کہ انہوں نے واشنگٹن میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران غزہ میں قید اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
انہوں نے منگل کی شب زور دے کر کہا کہ ٹرمپ کا منصوبہ اسرائیل کی جنگی حکمتِ عملی کے تمام اہداف بھی پورے کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ امریکی منصوبے کی تفصیلات کابینہ اور حکومت کے اراکین کو پیش کی جائیں گی۔
اقتصادی زون کا قیام
نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے موقف کو اجاگر کیا اور امریکی صدر کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ ایک ایسا منصوبہ بنایا جائے جس کے ذریعے تمام قیدیوں کی رہائی اور اسرائیل کے طے شدہ جنگی اہداف حاصل ہوں۔ ٹرمپ کا حتمی مقصد غزہ میں ایک اقتصادی زون قائم کرنا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کا کردار مسترد
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق نیتن یاھو نے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ اور وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ غزہ پر فلسطینی اتھارٹی کو حکمرانی نہیں دی جائے گی۔
20 نکاتی منصوبہ
قابل ذکر ہے کہ وائٹ ہاؤس نےدو روز قبل بیس نکاتی غزہ منصوبے کی تفصیلات جاری کیں ۔ اس میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر دونوں فریق متفق ہو جائیں تو جنگ فوراً ختم کر دی جائے۔ منصوبے کے مطابق غزہ کو غیر مسلح علاقہ قرار دے کر اس کی نگرانی فلسطینی کمیٹی اور بین الاقوامی ماہرین کو سپرد کی جائے تاہم اس میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔
دوسری جانب حماس کے ایک رہنما نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ منصوبے کا جائزہ لینے میں چند روز لگ سکتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو چار دن کی مہلت دی ہے کہ وہ منصوبے پر جواب دے، بصورت دیگر اسے "جہنم اور تاریک انجام" کا سامنا کرنا ہوگا۔
اسی دوران اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب دانی دانون نے بھی خبردار کیا کہ اگر حماس نے امریکی منصوبے کو مسترد کیا تو اسرائیل اپنی کارروائی جاری رکھتے ہوئے قیدیوں کو واپس لانے کا کام خود مکمل کرے گا، جو دراصل غزہ میں مزید فوجی کارروائی کی طرف اشارہ ہے۔