پاکستان میں سابق سعودی سفیر نےالقاعدہ سے مقابلے اور ایرانی اثر و رسوخ سے متعلق کیا کہا؟

چار ابواب پر مشتمل کتاب میں علی عواض عسیری نے ریاض ۔ اسلام آباد تعلقات کی گہرائی کا خلاصہ کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

سعودی عرب کے پاکستان میں سابق سفیر علی عواض عسيری نے اپنی سفارتی یادداشتوں اور تجربات میں بیان کیا ہے کہ کس طرح سعودی عرب اور پاکستان نے 1990 کی دہائی میں "القاعدہ" کے ابھار اور خطے میں "ایرانی اثرورسوخ" کے بڑھنے کا مقابلہ مشترکہ سکیورٹی، انٹیلی جنس اور سیاسی شراکت داری کے ذریعے کیا۔ یہ شراکت داری آج تک قائم ہے۔

حالیہ کامیابیاں

علی عواض عسيری نے اپنی نئی شائع ہونے والی کتاب میں پاکستان کے لیے سعودی حمایت کی کئی مثالیں پیش کیں جن میں اقتصادی اور سیاسی تعاون بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات کا نقطۂ عروج ایک دفاعی و سلامتی معاہدہ ہے جس نے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی ہلچل کے درمیان دونوں ریاستوں کے رشتے کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔

پاک سعودیہ مستحکم تعلقات

کتاب ’’ سعودی عرب اور پاکستان، ایک متغیر دنیا میں مستحکم تعلقات ‘‘ کو ’’المعہد الدولي للدراسات الإيرانية (رصانة) ‘‘ نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے اور دونوں ملکوں کے غیر معمولی تعلقات کا گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں ان تاریخی بنیادوں اور مختلف مراحل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جنہوں نے ان تعلقات کو موجودہ شکل دی اور مستقبل میں ان کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

مفادات سے بڑھ کر رشتہ

پاکستان کے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض مفادات تک محدود نہیں بلکہ یہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ ماضی میں ہر مشکل وقت، خصوصاً پاکستان کے جوہری تجربے کے بعد پیدا ہونے والے بحرانوں میں، سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا جو اس سٹریٹجک شراکت کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

تاریخ اور ابتدا

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ سعودی ۔ پاکستانی تعلقات کی بنیاد پرانے تجارتی اور ثقافتی روابط پر ہے جو عرب خطے اور برصغیر کے درمیان قائم تھے۔ اس میں اٹھارہویں صدی کی اسلامی "اصلاحی تحریک" اور اس کے دونوں جدید ریاستوں کی تشکیل پر اثرات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کے 1947ء میں قیام کے بعد تعلقات کے بتدریج فروغ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

سوویت یلغار اور عملی شراکت داری

کتاب کا ایک باب ’’ عملی شراکت دار ‘‘ کے عنوان سے ہے جو 1970 اور 1980 کی دہائی پر مرکوز ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب دونوں ممالک میں اقتصادی اور دفاعی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ اس میں شاہ فیصل بن عبدالعزیز اور پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنماؤں کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ ریاض اور اسلام آباد کیسے بڑی جیوپولیٹیکل تبدیلیوں، جیسے افغانستان پر سوویت یلغار، کے ساتھ کس طرح برادرانہ اور اسلامی یکجہتی کے ذریعے نمٹے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ

کتاب ’’ سعودی عرب اور پاکستان، ایک متغیر دنیا میں مستحکم تعلقات ‘‘ ریاض میں کتب میلے میں پیش کی جا رہی ہے۔ اس میں دونوں ملکوں کے انسدادِ دہشت گردی میں تعاون پر اور سعودی ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے اثرات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

اقتصادی ایجنڈا

کتاب میں سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو فراہم کی گئی دہائیوں پر محیط اقتصادی و انسانی امداد، ویژن 2030 کے تحت نئے معاشی مواقع، 2019 میں ولی عہد محمد بن سلمان کے دورۂ پاکستان کے اثرات، سرمایہ کاری کے نئے امکانات اور سعودی منصوبوں میں پاکستانی ماہر افرادی قوت کے کردار پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

مستقبل کے امکانات

کتاب کے آخر میں دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے ایک ’’ روڈ میپ ‘‘ پیش کیا گیا ہے جس میں سیاسی، اقتصادی، عسکری اور ثقافتی سطح پر سفارشات دی گئی ہیں تاکہ یہ شراکت داری مستقبل میں بھی عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔

اعتماد اور وضاحت پر مبنی تعلق

علی عواض عسيری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ سعودی ۔ پاکستانی تعلقات کی بنیاد کچھ پختہ اصولوں پر ہے جن میں سب سے نمایاں اعتماد اور وضاحت ہے۔ ان کے مطابق دونوں عوام کے درمیان غیر معمولی قربت ان تعلقات کو مزید گہرا کرتی ہے۔

پاکستان میں سعودی عرب سب سے پہلے

عسيری نے سفیر کی حیثیت سے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پاکستان میں کئی صدور، وزرائے اعظم اور فوجی سربراہوں کے ساتھ کام کیا۔ سب کی سعودی عرب کے بارے میں رائے یکساں تھی۔ میں نے ایک خاص دور میں اپنی قیادت کی ہدایت پر پاکستانی سیاسی جماعتوں کے درمیان ثالثی بھی کی اور ہمیشہ سعودی رائے کو فوری قبول کیا گیا۔

سعودی عرب کی دینی حیثیت

سابق سفیر نے کہا ہے کہ ہ پاکستانی عوام اور قیادت سعودی عرب کی دینی حیثیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی جانب سے سعودی قومی تقریبات پر جوش و خروش اس کی واضح دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک شاندار منظر ہوتا ہے۔ یہ تعلق خلا میں پیدا نہیں ہوا بلکہ ایک خالص اور شفاف رشتے کی بنیاد پر قائم ہوا ہے جو آج تک قائم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں