ہالینڈ کے کارگو جہاز پر حوثیوں کا حملہ ... یورپی یونین کی جانب سے شدید مذمت

جہاز جیبوتی کے ساحل کے قریب سفر کر رہا تھا، اس پر 19 افراد پر مشتمل عملہ سوار تھا اور اس پر کوئی سامان لدا ہوا نہیں تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

یورپی یونین نے یمن کے جنوب میں خلیج عدن کے اندر حوثیوں کی جانب سے ایک ڈچ تجارتی جہاز پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس سے جہاز کے عملے کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا۔

یورپی یونین کے ترجمان نے ایک پریس ریلیز میں کہا "ہم 29 ستمبر کو خلیج عدن میں ڈچ پرچم بردار تجارتی جہاز (MINERVA GRACHT) پر حوثیوں کے حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں"۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس حملے سے جہاز کے عملے کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں، جس کے بعد یورپی یونین کے بحری مشن (Aspides) کی مدد سے عملے کو بحفاظت نکالا گیا۔ یہ مشن سمندری گزرگاہوں کی آزادی کے دفاعی اختیارات کے تحت کام کرتا ہے۔

یورپی یونین کے ترجمان نے زور دیا کہ ان سمندری حملوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے، کیونکہ یہ "بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور عالمی تجارت اور بحری جہازرانی کی آزادی پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں"۔ بیان میں کہا گیا کہ حوثیوں کی جانب سے بحری کارروائیوں میں مسلسل اضافہ سب سے پہلے یمنی عوام کو نقصان پہنچا رہا ہے کیونکہ "یہ حملے یمن کی انسانی صورتِ حال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں اور امن کے امکانات کو کمزور کر رہے ہیں"۔

یورپی یونین نے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2768 (سال 2025) پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ قرارداد حوثیوں سے تجارتی جہازوں پر حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ حملے کے بعد نیدرلینڈ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا پر پابندیاں عائد کی جائیں اور اسے "دہشت گرد تنظیم" قرار دیا جائے۔

نیدرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا "حوثی طویل عرصے سے جہازرانی کی آزادی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں"۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے بھی یورپی یونین اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ حوثیوں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے، کیونکہ انھوں نے خلیج عدن میں ڈچ کارگو جہاز (MV Minerva Gracht) پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یمنی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام "حوثیوں کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں کو روکنے اور ان پر اور ان کے ایرانی سرپرستوں پر مؤثر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ضروری ہے"۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ "آزاد جہازرانی اور عالمی تجارتی سلامتی کے لیے اس گروہ کے براہِ راست خطرے کو ظاہر کرتا ہے"۔ یمنی حکومت نے اس واقعے کو واضح ثبوت قرار دیا کہ "حوثی ایران کے نظام کی ایک عسکری شاخ ہیں جو تخریبی ایجنڈے کو آگے بڑھا کر یمنیوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں"۔ حکومت نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر بحری راستوں کے تحفظ اور خطے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کو دہرایا۔

گزشتہ منگل کو حوثی ملیشیا نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تنظیم کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے اعلان کیا کہ کارروائی "ایک کروز میزائل" کے ذریعے کی گئی۔ اس کے نتیجے میں جہاز کو نشانہ لگا، آگ بھڑک اٹھی اور وہ "ڈوبنے کے خطرے" سے دوچار ہو گیا۔

یورپی یونین کے بحری مشن آسبیدس اور ڈچ شپنگ کمپنی "سبلیٹہوف" نے منگل کو بتایا کہ دھماکے کے بعد بھی "مینیروا گراخت" جہاز پر آگ لگی ہوئی تھی۔ جہاز اُس وقت جیبوتی کے ساحل کے قریب خالی حالت میں 19 رکنی عملے کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔

بحری مشن اور کمپنی کے مطابق حملے میں دو ملاح زخمی ہوئے، اور انیس رکنی عملے کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں