امریکہ کا غزہ امن منصوبے کی حمایت پر سعودیہ، قطر، ترکیہ، مصر اور اردن کا شکریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن منصوبہ تیار کرنے میں سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور اردن کی کوششوں کو سراہا، اور ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ غزہ میں موجود تمام مغوی اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے منصوبے پر حماس کی منظوری کے بعد ایک ریکارڈ شدہ بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں سب امن چاہتے ہیں اور ہم اسے عملی جامہ پہنائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا: ہم غزہ میں جنگ ختم کرنے اور مغویوں کو واپس لانے کے ایک عظیم اور بے مثال دن سے گزر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ واشنگٹن نے غزہ کے منصوبے تک پہنچنے کے لیے بڑی کوششیں کی ہیں اور کہا: ہم سب کے لیے انصاف چاہتے ہیں۔

حماس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس نے امریکی صدر کے امن منصوبے کے بعض نکات کو قبول کر لیا ہے، تاہم بعض دیگر نکات پر مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔

مزید برآں حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے اپنی تنظیمی قیادت کے ساتھ گہری مشاورت، فلسطینی جماعتوں اور دھڑوں کے ساتھ وسیع تبادلہ خیال اور ثالثوں و دوستوں کے ساتھ مذاکرات کیے تاکہ ٹرمپ کے منصوبے کے ساتھ ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا جا سکے۔

حماس کی جانب سے منصوبے کے بعض نکات پر جزوی رضامندی کے اعلان کے ساتھ ہی بین الاقوامی سطح پر مثبت ردعمل آنا شروع ہو گیا۔

جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس بات کا خیر مقدم کیا کہ حماس صدر ٹرمپ کے منصوبے کے تحت قیدیوں کی رہائی کے لیے تیار ہے۔

اپنی جانب سے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ حماس کے امن منصوبے پر مثبت ردعمل کے بعد غزہ میں تمام قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی قریب ہے۔

میکرون نے "ایکس" پلیٹ فارم پر لکھا: غزہ میں تمام قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی اب قریب ہے۔

اپنی جانب سے جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس (Friedrich Merz) نے کہا کہ غزہ میں امن اور قیدیوں کی رہائی اب قریب ہے۔

انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر مزید کہا کہ امریکی منصوبہ اس علاقے میں امن قائم کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے منصوبے کے اہم نکات اس طرح ہیں کہ فلسطینی علاقے میں جنگ کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور اس کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے، جس میں 100 سے 200 سخت سزایافتہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔

ٹرمپ کے منصوبے میں حماس کو عام معافی کی پیشکش بھی شامل ہے بشرطیکہ وہ غزہ سے نکلے اور اپنے ہتھیار حوالے کر دے۔ساتھ ہی یہ تجویز بھی ہے کہ جماعت کے ہتھیار ایک مقررہ مدت میں عرب بین الاقوامی فورس کے ذریعے جمع کرائے جائیں۔

منصوبے کے مطابق غزہ کی انسانی ہنگامی ادارے کو بند کر دیا جائے گا، اور اس کے نتیجے میں انسانی امداد فوراً بغیر کسی پابندی کے پہنچائی جائے گی، جس کی ذمہ داری اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں پر ہوگی۔

اسی طرح منصوبے میں اسرائیل کے غزہ کے مکمل علاقے سےبتدریج انخلا کی تجویز بھی شامل ہے، جس میں مکمل انخلا کے لیے ایک مقررہ وقت کا تعین ہوگا، اورشہریوں کی واپسی کے لیے محفوظ راستے قائم کیے جائیں گے۔

امریکی منصوبے میں پانچ سال کے دوران بین الاقوامی اتحاد کے ذریعے غزہ کی تعمیر نو بھی شامل ہے، جبکہ ایک فلسطینی سکیورٹی فورس قائم کی جائے گی جو عرب بین الاقوامی نگرانی میں علاقے کی انتظامیہ سنبھالے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں