فلوٹیلا سے غزہ جانے کی کوشش پر اسرائیل نے 20 صحافی گرفتار کر لیے، عالمی تنظیم کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر کے فلسطینیوں کو بھوک سے ہلاک کرنے اور ان کی نسل کشی کی اسرائیلی جنگی حکمت عملی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے صمود فلوٹیلا کے ساتھ آنے والے 20 سے زائد بین الاقوامی صحافیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

اسرائیل غزہ میں اپنی جنگی کارروائیوں اور نسل کشی کے لیے بارودی ہتھیاروں کے علاوہ بھوک اور قحط کو بھی بطور ہتھیار کے استعمال کرنے کی بین الاقوامی میڈیا کو کوریج کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اس لیے فلوٹیلا کے اس سفر کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

اس بڑے پیمانے پر بین الاقوامی صحافیوں کی گرفتاریوں کے خلاف صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ' رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز ' نے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ہے۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے اس ادارے نے ان گرفتاریوں پر جاری کردہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل تمام صحافیوں کو فوری طور پر رہا کرے

خیال رہے اسرائیلی فوج دو سال کو چھو رہی اپنی غزہ جنگ میں اب لگ بھگ دو سو پچاس صحافیوں کوقتل کر چکی ہے۔ ان میں مختلف بین الاقوامی اداروں سے وابستہ صحافیوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

اب تازہ گرفتاریوں کے خلاف پیرس بیسڈ اس بین الاقوامی صحافتی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے بیس سے زائد صحافی فلوٹیلا کے ساتھ تقریبا ایک ماہ سے اس مشکل سفر میں ہمراہ تھے۔ تاکہ انسانی بنیادوں پر غزہ کے فلسطینیوں کی حالت زار کے بارے عالمی طاقتوں کے ضمیر کو جھنجوڑ سکیں۔ کیونکہ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں قحط کے ڈیرے ہیں جس سے بچے اور بڑے سبھی ہلاک ہو رہے ہیں۔

یاد رہے صحافیوں کو اسرائیلی بحری فوج نے بدھ اور جمعرات کے درمیان گرفتار کیا ہے۔جب یہ کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا کے ساتھ غزہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔

پنتالیس ملکوں سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کارکنوں میں پاکستان سے سینیٹر مشتاق احمد خان اور سویڈن سے تعلق رکھنے والی گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہے۔ گریٹا تھنبرگ دوسری بار غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے فلوٹیلا کے ساتھ ہمسفر ہیں۔

'آر آیس ایف' کے مطابق مجموعی طور پر اس فلوٹیلا کے ساتھ آنے والے انسانی حقوق کارکنوں کی تعداد چار سو سے زائد ہے۔ جنہیں اسرائیلی فوج طاقت سے روک کر غزہ پہنچنے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں ہے۔

'آر ایس ایف' کے کرائسس ڈیسک کے سربراہ مارثن روکس نے کہا ہے صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے روکنا اور انہیں بلا جواز گرفتار کرنا اطلاعات تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

صحافیوں کی اس بین الاقوامی تنظیم 'آر ایس ایف' نے ان بین الاقوامی صحافیوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔

'آر ایس ایف' کے مطابق جب سے اسرائیلی فوج کی حراست میں ان صحافیوں کو لیا گیا ان صحافیوں کے بارے میں ان کے اداروں کو بھی کوئی خبر نہیں۔ صحافیوں کا تعلق سپین کے میڈیا ایل پائس، قطر کے الجزیرہ اور اٹلی کے میڈیا آؤٹ لیٹ ' آر اے آئی ' وغیرہ سے بتایا گیا ہے۔ ان تمام صحافیوں کے اداروں کو ان کی گرفتاری کے متعلق معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ کیونکہ اسرائیل اس طرح کی رسائی نہیں دیتا۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ان لوگوں کو یورپی ممالک کی طرف ڈی پورٹ کر دے گا۔ اسرائیل کو اس امر کا بھی اطمینان ہے کہ ان افراد میں سے کوئی بھی غزہ میں داخل نہیں ہو سکا اور نہ ہی اسرائیلی حدود کی خلاف ورزی کر سکے ہیں۔

یاد رہے اسرائیل کی غزہ جنگ میں اب تک اسرائیلی فوج 66225 فلسطینیوں کو قتل کر چکی ہے۔ جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ سینکڑوں فلسطینیوں کو اسرائیلی ریاست بھوک اور قحط سے مارنے میں کامیاب رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں